حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 485 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 485

ہے اور براہینِ احمدیہ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے ۔اس نمونہ سے جو ہمارے زمانہ کے راستباز سے ظاہر ہے خدا کی واقعی وحی کا پتہ لگ سکتا ہے اِسلئے کہ جو وعدہ تطہیر اور رفع اور توفّٰی اور فوق کا حضرت مسیح ؑ کو دیا گیا تھا وہی ہمارے آقا حضرت مسیح موعود کو دیا گیا ہے۔آپ کے حالات و واقعات بڑی بھاری چابی ہیں، گذشتہ حالات کے قفلوں کے لئے۔پھر بڑا قابلِ غور لفظ تَوَفّٰیہے۔یہ بھی ایسا صاف اور واضح ہے کہ عام بول چال میں ہر ایک شخص جانتا ہے کہمُتَوَفّٰی َ مُردہ کو کہتے ہیں۔(نور الدین (ایڈیشن سوم) صفحہ ۱۷۷،۱۷۸) جب کہا اﷲنے او عیسٰی ! بے شک مَیں تجھے مارنے والا ہوں اور اپنی طرف بلند کرنے والا اور ان منکروں سے پاک و صاف کرنے والا ہوں اور کرتا رہوں گا تیرے اَتباع کو تیرے منکروں کے اوپر قیامت تک۔پھر او اِتّباع کا دعوٰی کرنے والو! تم سب کا مقدمہ میرے پیش ہو گا اور مَیں حکم کروں گا اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں گا اس مسئلہ میں جس میں تم کو باہم اختلاف ہے۔تفسیر۔مسیح علیہ السّلام کی اِتّباع کے مدعی یا اہلِ اسلام ہیں یا مسیحی۔اور آپ کے منکروں میں اوّل درجہ کے منکر یہود ہیں جن کا اصلی ملک کنعان ہے اور جن کا کعبہ یروشلم۔دوم درجہ پر آپ کے منکر مجوسی اور تیسرے درجہ پر مجوس الہند۔اعلیٰ اَتباع اعلیٰ منکروں پر حکمران اور ادنیٰ درجہ کے اتباع ادنیٰ منکروں پر حکمران ہو رہے ہیں۔لاکن تیرے منکروں کو تو سخت عذاب دوں گا دُنیا میں اور آخرت میں۔اور کوئی سلطنت ان کی حامی نہ ہو گی بلکہ ان کا کوئی حامی نہ ہو گا۔(ابطال الوہیّت مسیحؑ صفحہ ۲۰،۲۱)    :یہ بات نشانوں میں سے ایک بھاری نشان ہے۔یہاں تک تو منکرانِ مسیحؑ کا