حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 483
اِس رکوع میں اﷲ نے مجھے ایسا اِنشراح صَدر بخشا ہے کہ مَیں اس کے ذریعہ سے تمام دُنیا کے مذاہب کو محض فضلِ الہٰی سے یقینا جیت سکتا ہوں۔اِس قدر انشراح مجھے حاصل ہے کہ مَیں کسی مجلس میں جہان اِسلام کے مخالف لوگ بیٹھے ہوں ذرّہ بھر بھی بُزدل نہیں ہوتا۔تمام دُنیا کے لئے یہ قاتل حُجت ہے جس کے سامنے کوئی بول نہیں سکتا۔یہ آیت قیامت تک اِسلام کا بول بالا ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔یہ اِس لئے مَیں نے کہا تا تمہیں اِس نعمت کی قدر ہو۔:مَیں تیری رُوح کو قبض کرنے والا ہوں۔تَوَفِّیْ کے معنے پر حضرت صاحب نے سیر کُن بحث فرمائی ہے میری تشریح کی حاجت نہیں۔آپ نے انعامی اشتہار شائع کئے کہ قبضِ رُوح کے سوا کوئی اور معنے اس کے بلاقرینہ صارفہ بتا دے۔ایک مولوی نے دہلی میںوُفِّیَتْ (اٰل عمران :۲۶)کو پیش کیا مگر وہ کیسا نادم ہوا جب آپ نے فرمایا کہ کیا یہ اُسی باب سے ہے جس باب سے تَوَفِّیہے؟ :لوگ تجھے جُھوٹا، کذّاب، سفلی زندگی کا سمجھتے ہیں مگر مَیں تیری رُوح کو قبض کر کے اعلیٰ علّیین میںاِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ ( المطفّفین:۱۹)مقام دوں گا۔:پس یہ وہ دلیل ہے جس پر ساری دُنیا کے مذاہب کا امتحان ہے۔فرماتا ہے کہ مَیں کرنے والا ہوں وہ جو کہ تیرے تابع ہیں بڑھ کر ان پر جو تیرا انکار کرتے ہیں اور پھر یہ قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔یہ ایک زبردست پیشگوئی ہے۔دُنیا میں دو قِسم کے لوگ ہیں یا مسیح کو ماننے والے یا مسیح کے مُنکر، ان دونوں کے درمیان تو یہ فیصلہ کی راہ بتائی کہ مسیحؑ کے ماننے والے منکروں پر غالب رہیں گے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی اور مسلمان مسیحؑ کے ماننے والے یہود پر حکمران ہیں اور پھر اَور قومیںجو مسیحؑ کی منکر ہیں وہ بھی محکوم ہی ہیں اور صرف محکوم نہیں بلکہ فرمایا کہ