حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 481 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 481

تو وہ زندہ کہلائے گا۔اِسی طرح حضرت عیسٰیؑ رُوحانی مُردوں کو زندہ کرتے تھے۔: اِس کے معنے کرنے کے لئے بھی یہ دیکھ لینا چاہیئے کہ نبی لوگوں کے کھانے پینے اور رکھنے کی چیز کے متعلق متنبّہ کرتے ہیں یا وہ نجومیوں کی طرح یہ بتایا کرتے ہیں کہ تمہارے گھر میں یہ ہے تم یہ کھا کر آئے ہو یا وہ کھانے پینے کی چیزوں اور مال کے متعلق جائز و ناجائز کا حکم دیا کرتے ہیں۔جب آخری بات ثابت ہے جیسا کہ حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی اُمّت کو فرمایا مُردار نہ کھاؤ، دم مسفوح نہ کھاؤ، خنزیر نہ کھاوَمَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ ﷲِ نہ کھاؤ ایسا ہی حضرت عیسٰیؑ نے حکمِ الہٰی کو واضح کیا کہ یہ چیزیں کھانیکی ہیں یہ نہ کھانے کی۔اِتنا مال جمع کرنے کی اجازت ہے اِتنا اِس میں سے خدا کے نام دینا چاہیئے۔ون لِاُ حِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْکے معنی بھی اسی توضیح سے کُھل گئے۔یہودی اپنی بَد عملیوں کی وجہ سے بعض چیزوں سے بعض نعمتوں سے محروم ہو گئے تھے۔فرمایا تم میری فرمانبرداری کرو وہ نعمتیں پھر اﷲ تمہیں میسّر کر دے گا۔(تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر ۹ صفحہ ۴۱۶ تا ۴۲۱) : اِس آیت کے لئے دیر تک مَیں فِکر میں رہا۔قرآن شریف میں آیا ہے  (النّحل:۱۱۷) پس مسیحؑ کیونکر کسی چیز کو حرام یا حلال کہہ سکتے ہیں یہ تو خدا کا کام ہے۔بہت سوچ کے بعد دو امرحل ہوئے ایک تو یہ کہ اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ ( حَرَّمَ مَکَّۃَ ) حُرمتِ مکّہ کے معنے سب یہی کرتے ہیںبَیَّنَ حُرْمَتَھَا۔پس اِس سے یہ مطلب ہؤا کہ عیسٰی ؑ حرام و حلال بیان کرتے تھے۔دوسرے معنے یہ ہوئے کہ ہر نبی اپنی قوم کو اعلیٰ معراج پر پہنچانا چاہتا ہے۔یہودیوں پر ذلّت و مسکنت لیس دی گئی تھی۔ان کے لئے طیبّات جو مالِ غنیمت اور سلطنت کے انعامات کے رنگ میں تھے بوجہ ان کی بَد اعمالی کے حرام کر دیئے گئے تھے۔یعنی وہ ان سے محروم ہو گئے تھے۔اب عیسٰیؑ کہتے ہیں میری پَیروی کرو یہ سب انعامات جن سے تم محروم ہو تمہارے لئے حلال کر دیں گے۔( ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء)