حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 473 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 473

کَلِمَۃُ بمعنے کلام آتا ہے۔مسلمانوں کی بَد قِسمتی سے ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ کلمہ لفظ مفرد کو کہتے ہیں اِس لئے وہ کلمہ بمعنی کلام سُنکر حیران ہوتے ہیں۔سُنو! کلمہ متحمل خبر صدق و کذب کا نہیں ہوتا۔مگر خدا فرماتا ہے (الانعام:۱۱۶)اور۔۔ (الصّٰفّٰت: ۱۷۲ تا ۱۷۴) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء) : ہم تجھے اﷲ کے کلام سے ایک بشارت سُناتے ہیں۔( تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۶)  اِس آیت پر لوگوں نے بے وجہ بحث کی ہے اور اِس بے وجہ کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کی طبیعتیں عجوبہ پسند ہیں۔حالانکہ بات صاف ہے کہ بعض عورتوں کے بچّے پیدا ہوتے ہی مَر جاتے ہیں پھر بعض کے بچّے گونگے بہرے ہوتے ہیں۔تو اﷲ تعالیٰ پیشگوئی میں مریمؑ کو تسلّی دیتا ہے کہ وہ گونگا نہیں ہو گا بلکہ کلام کرنے والا ہو گا۔اس وقت جبکہ بچّے بولنا سیکھ لیتے ہیں۔جیسا کہ بڑا سمجھدار ہو کر کلام کرے گا۔کَھْلًاکے معنے بخاری میں حلیمؔ کے لکھے ہیں۔اس میں یہ بتایا ہے کہ وہ تیری ہی زندگی میں ادھیڑ عمر تک پہنچ جاوے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء)   :اسی طرح ہو کر رہے گا جیسے کہا سورۃ مریم میں ( آیت :۱۰) اسی کَذٰلِکَپر وقفہ ہے۔