حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 45
ہیں یا اس کی محافظت کرتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں آیا (المعارج:۲۴)وہ اپنی نمازوں پر مداومت کرتے ہیں(المؤمنون:۱۰)وہ اپنی نمازوں پر حفاظت کرتے ہیں۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان نومبر ۱۹۰۶ء) ۔وہ نماز کو قائم کرتے ہیں وہقائم کرتے ہیںیعنی کھڑی کرتے ہیں۔اِس لفظ کے استعمال میں یہ لطیفہ ہے کہ چونکہ ابتدائی منازل میں مومن کی نفسِ امّارہ سے جنگ ہوتی ہے نفس اس کو بار بار دُنیا اور اس کے لذّات اور افکار کی طرف کھینچتا ہے اور ادھر یقینی امر کے تحصیل کے واسطے اس کے دِل میں امنگ ہوتی ہے۔ایسے موقع پر متقی کو ایک جنگ کرنا پڑتا ہے اِس لئے فرمایا کہ بوجہ وساوس کے متقی کی نمازبار بار گِرتی ہے مگر ہرآن اسے پھر قائم کرتا ہے۔یہ ایک ایسی حالت ہے جسے پڑھنے والے خوب مشاہدہ کرتے ہوں گے یا کر چکے ہوں گے زیادہ تفصیل کی کیا ضرورت ہے۔۔وہ خاص نماز جو کہ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے پرھ کر دکھلائی… صلوٰۃ کا لفظ صلّی سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں کِسی لکڑی کو گرم کر کے سیدھا کرنا۔اور چونکہ نماز سے بھی انسان کی تمام کجی نکل کر وہ سیدھا ہو جاتا ہے اِس لئے نماز کو صلوٰۃ کہتے ہیں۔وہ کجیاں کیا ہیں؟ فحش اور غیر پسندیدہ امور کی طرف انسان کا میلان۔ان سے یہ نماز روکتی ہے جیسے فرمایا(العنکبوت: ۴۶) اِنسان کی نجات کا مدار ایمان کے بعد دو باتوں پر ہے ایک تعظیم لِاَمرِ اﷲ۔دوسرے شفقت علیٰ خَلقِ اﷲ۔پہلی بات تعظیم لامر اﷲ کے لئے صلوٰۃ ہے کہ انسان دُنیاوی حکّام کی ملازمت مشغول ہوتا ہے اور اس کی ناراضگی کا خطرہ ہوتا ہے اور نماز کا وقت آتا ہے تو ان سب حاکموں کو چھوڑ کر وہ احکم الحاکمین کے حکم کی اطاعت کرتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے اور جس اَلغیب ہستی پر وہ ایمان لایا تھا پانچ دفعہ دن میں اس ایمان کی عملی شہادت اپنے اعضاء سے دیتا ہے اسی طرح تاجر اپنی تجارت اور ہر پیشہ ور اپنے پیشے میں جب نماز کے اَوقات کی پابندی کما حقّہ ، کرتا ہے تو یہ اس کے مومن ہونے کی دلیل ہوتی ہے اور یہ ثبوت ہوتا ہے اِس امر کا کہ اس نے اپنا معبود، اپنا حاکم اور اپنا رازق اﷲ تعالیٰ ہی کو مانا ہؤا ہے اور اپنی تجارت یا پیشہ کو اس کا شریک نہیں بنایا ہے۔