حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 467 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 467

:بہت معمولی بات ہے مگر مفسّرین کی عجوبہ پسند طبیعت نے بے موسمی میوے کھائے۔یہ خواہ مخواہ کی زیادۃ علی القرآن ہے۔:یہ واقعہ صرف اﷲ تعالیٰ نے اِس لئے بیان کیا کہ تا ظاہر ہو کہ اس خاندان کے بچّے بھی کیسے خدا پرست تھے کہ وہ معمولی چیزیں بھی جب پاتے تو توحید میں ایسے مستغرق تھے کہ یہی کہتے کہ خدا نے دیا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء)   :مفسّرین نے جَھک مارا ہے جو کہا ہے کہ زکریا نااُمّید تھے۔ناامّید خدا کی جناب سے کافر ہوتا ہے۔ہاں یہ صحیح ہے کہ انبیاء دعا نہیں کرتے جب تک خاص تحریک اور اجازت الہٰی نہ ہو۔حضرت نوحؑ کی نسبت پڑھو( ھود :۴۷) پس اس وقت زکریّا کو ایک تحریک ہوئی تو کہا اے خدا ! ایسی نیک اولاد مجھے بھی دے۔یہ معنے ہیں ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ط اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآئِکے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء)