حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 465
بدی کی تعلیم دی اور استغفار سکھایا۔پھر جب دوسرا دَور آیا تو ابراہیمؑ کو رسالت سے ممتاز کیا جنہوں نے تنزیہہ کے علاوہ فرمانبرداری کی تاکید کی اوراِنَّ صَلٰوتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ کا سبق دیا۔پھر حضرت موسٰیؑ کا زمانہ آیا۔ان کی قوم کو اﷲ تعالیٰ نے نبوّت بھی دی۔غرض تمام انعامات سے بھر پور کر دیا اور یہ نہ سمجھو کہ ان میں خاص خاص لوگ ہی تھے بلکہ عمران کی عورتوں کو بھی مشرَّف بکلامِ الہٰی کیا۔چنانچہ عمران کی ایک عورت کا ذکر کرتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء) بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ مریمؑ کی والدہ عمران کی بیوی نہ تھی۔یہ غلط ہے۔یہودیوں ، عیسائیوں میں بزرگوں کے نام پر قوم چلتی ہے۔موسٰیؑ اور ہارونؑ عمران کے بیٹے تھے۔پس انہی کی نسل میں سے ایک عورت تھی جس کا یہ ذکر ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء) : عمرانیوں کی ایک عورت نے۔عمران خاوند اور اسکی بی بی مراد نہیں۔: اَب تک ہندوؤں میں اور بعض مسلمانوں میں یہ رسم ہے کہ اگر کسی کی اولاد زندہ نہ رہے تو وہ چڑہاوا چڑھا دیتا ہے۔گویا اِس پاک رسم کی اصل موجود ہے۔وہ کسی خانقاہ کے نام پر تو نہ تھی۔البتہ فرمایا کہ یا اﷲ مَیں نے اپنے کام سے آزاد کر دیا۔دین کے لئے وقف کر دیا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۷؍جون ۱۹۰۹ء)