حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 460
:خدا کے تمام وعدے اعمال کے ساتھ وابستہ ہیں اور اعمال کی توفیق دعاؤں سے حاصل ہوتی ہے اِس لئے دعا سکھائی ہے۔قرآن کی دعائیں یا تو رَبِّ، رَبَّنَاسے شروع ہوتی ہیں یا اَللّٰھُمَّ سے۔عام دُعا جو ہر نماز میں مانگی جاتی ہے وہ بھی اَللّٰھُمَّ سے ہی شروع ہوتی ہے۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷ مئی ۱۹۰۹ء) انسان چاہتا ہے کہ دنیا میں معزز اور محترم بنے لیکن حقیقی عزت اور سخی تکریم خدا تعالیٰ سے آتی ہے وہی ہے جسکی یہ شان ہے (الحکم ۱۰ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۵) :وہ چاہے تو جن کے گھر غموں کی اندھیری ہے وہاں آرام کا دن چڑھا دے اور چاہے تو جہاں راحت کی روشنی ہے وہاں دُکھوں کی تاریکی کر دے۔وہ چاہے تو بُروں سے بھلے اور بھلوں سے بُرے بنا دے۔جسے چاہے عزّت دے جسے چاہے ذلیل کرے۔یہ دُعا نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم و صحابہ ؓ نے مانگی۔خدا نے ان کو عزّت دی، نیک و ممتاز انسان بنایا۔یہاں جہاد کے متعلق یہ ہدایت کی ہے کہ دُعا ضروری ہے۔پھر افتراء نہ کرے۔خدا تعالیٰ کا صریح نافرمان نہ ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء)