حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 458 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 458

سورۃبقرۃ میں بھی یہی فرمایا ہیذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اﷲِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ (البقرۃ :۶۲) مَیں اِس آیت کے یقینيا یہی معنے سمجھتا ہوں کہ نبی کریمؐ کا مقابلہ گویا سارے جہان کے نبیوں کا مقابلہ ہے اور ان کے قتل کی تجویزیں گویا تمام انبیاء کے قتل کے برابر ہے بلکہ آجکل کے جو انصاف سے حکم کرنے والے ہیں یعنی صحابہؓ جن کی تعریف میں آیا ہے وَ اُولُو الْعِلْمَ قَآئِمي بِالْقِسْطِ اور یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ ان سب سے مقابلہ کی ٹھانی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء)   : ان کو کھول کر سُنا دو کہ تمہاری ساری تجویزیں اور منصوبہ بازیاں ناکام رہ جاویں گی۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم فرماتے ہیں نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَھْرٍ پھران کے دشمنوں کا جو حَشر ہؤا وہ سب نے دیکھا۔اس کے بعد ابوبکرؓ کے مقابلہ میں جو لوگ اُٹھے وہ بھی ناکام رہے۔جب دُنیا میں یہ حالت ہوئی تو بس آخرت میں بھی ضرور یہی ہو گا۔: یہود کی قوم اس کا ثبوت موجود ہے۔کسی ملک میں ان کو سر چُھپانے کو جگہ نہیں ملتی۔جہاں جاتے ہیں جلاوطن کئے جاتے ہیں۔کوئی آدمی ان کی پیٹھ بھرنے والا نہیں۔سورۃ بقرۃ میں بھی اسی مضمون کی آیت آئی۔دیکھو رکوع ۱۰ پارہ اوّل۔ (البقرۃ:۸۷) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء)