حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 44 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 44

جاؤ گے اور اسی کی خواہش کرو کہ جس کی طرف تم جانے والے ہو اور جس میں تم رہو گے اور یہ ایمان کبیر میں مذکور ہیں۔۔ایمان لاتے ہیں اِس حالت میں کہ وہ لوگوں سے غائب ہوتے ہیں جیسا فرمایا(یٰس ٓ:۱۲) جو ڈرا الرحمن سے غائب ہونے کی حالت میں۔اور فرمایا(الانبیاء:۵۱) ڈرتے ہیں اپنے ربّ سے پوشیدہ ہونے کی حالت میں۔پس اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السّلام کا قول قرآن مجید میں منقول ہے کہ (یوسف:۵۳)تاکہ وہ جان لے کہ غائبَانہ حالت میں مَیں نے اس کی خیانت نہیں کی۔تو اِن معنوں کے رُو سے مطلب یہ ہو گا کہ متّقی لوگ ان لوگوں کی مانند نہیں ہوتے کہ جن کے حق میں آیا ہے (البقرۃ:۱۵)جب مومنوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کو اکیلے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں بلکہ جیسے وہ لوگوں کے سامنے ایمان لاتے ہیں اِن اشیاء ( اﷲ اور نبوّت،رسالت،کتاب اﷲ کے منجانب اﷲ ہونے اور قیامت وغیرھا) پر جو کہ لوگوں سے غائب ہیں۔پسؔ ؔ یہاں پر ایسا ہے جیسا کہ بِاﷲِ۔اٰمَنَّا بِاﷲِ میں ہے۔اور دلائل ؔبیہقی میں ہے کہ آنحضرت صلَّی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اَ لَا انَّ اَعْجَبَ الْخَلْقِ اِلَیَّ اِیْمَانًا قَوْمٌ یَکُوْنُوْنَ بَعْدَ کُمْ یَجِدُوْنَ صُحُفًا فِیْھَا کُتُبٌ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا فِیْہِ ہاں سب مخلوق سے مجھے زیادہ پسند ان لوگوں کا ایمان ہے جو کہ تم سے پیچھے آئیں گے تو کچھ صحیفے پائیں گے کہ جن میں کتابیں ہوں گی اور وہ ان پر ایمان لائیں گے۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان ماہِ اکتوبر ۱۹۰۶ء) ۔کی اقامت سے یہ مراد ہے کہ سجود، رکوع، تلاوت کو پُورا کیا جائے اور خشوع اور حضور کے ساتھ پڑھی جائے اور خوب توجّہ رکھی جائے۔تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباسؓ نے یہی معنے بیان فرمائے ہیں۔اقامت چیز کے ادا کرنے کو بھی کہتے ہیں۔پس اِن معنوں کے لحاظ سے یہ مقصد ہو گا کہ صلوٰۃ کا حق ادا کرتے یا یُوں کہنا چاہیئے کہ اس کو کما حقّہا ادا کرتے ہیں اور امام راغبؒ نے لکھا ہے کہ یہ لکڑی کی اقامت سے ہے جو کہ سیدھا کرنے کے معنوں میں ہے یا بمعنے مداومت یا بمعنے محافظت ہے۔پس معنے یہ ہوں گے کہ صلوٰۃ کو سیدھا کرتے ہیں یا اس پر مداومت کرتے