حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 451
:قیامت کے متعلق قرآن مجید اَربعہ متناسبہ سے کام لیتا ہے مثلاً کوئی چیز ایک روپیہ کی سیر ہے تو چار روپیہ کی چار سیر ہو گی۔جو نسبت پہلے کو دوسرے سے ہے وہی تیسرے کو چوتھے سے ہے۔وہاں مدینہ میں سات قومیں مسلمانوں کی دشمن تھیں۔بنو قینقاع بنو قریظہ بنو نضیر اوس خزرج میں باہمی عداوت تھی۔عیسائی ابوعا کے ماتحت نواحی مدینہ غطفان اور مُضَر کا قبیلہ۔مکّہ کے شریر لوگ جو تجارت کے بہانے سے کبھی مدینہ کی مغرب کی طرف نکل جاتے۔کبھی مشرق کی طرف سے اَور قوموں کو مسلمانوں کے خلاف اُکساتے پھرتے۔تجارت کے ذریعے ایسی پولیٹیکل چالیں چلی جاتی ہیں۔یہ سب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے مخالف تھے انکی حالت کا نقشہ اور پھر ان کا انجام اِس آیت میں ہے (الحشر:۳)اَب دیکھئے یہاں پیشگوئیاں دو ہیں سَتُغْلَبُوْنَاور تُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ۔جبتُغْلَبُوْنَ دکھا دیاتوتُحْشَرُوْنَضرور ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۷؍ مئی ۱۹۰۹ء) :اعلاء کلمۃ اﷲ کے لئے۔:کفّار ایک ٹیلہ پر چھ سَو تھے اور مسلمان ۳۱۳۔اور مومن کے لئے تو یہ آیت ہے اِس لئے کہ اﷲ تعالیٰ فرما چکا ہے(الانفال:۶۷) تورات یسعیاہ ۲۱باب ۱۵ آیت میں یہ پیشگوئی لکھی ہے۔اِس اعتبار سے اہل کتاب کیلئے بھی بدرؔ کا وقعہ آیت ہے۔:یہ مَیں پہلے بتا چکا ہوں کہمَنْ معرفہ بھی آتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء)