حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 445
: ہدایت تھی کہ مقابلہ نہ کرنا ورنہ ہلاک ہو جاؤگے۔:معلوم ہوتا ہے اس وقت فرقان ہو چکا تھا۔فرقان کے معنے قرآن شریف نے خود کئے ہیں چنانچہ فرمایا ہییَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ ( الانفال:۴۲) وہی جنگ بدرؔ جس میں اکابرانِ مکّہ مارے گئے۔:بعینہٖ وہی ترتیب ہے جو سورۃ بقرۃ میں تھی۔وہاں عذابِ عظیم فرمایا یہاں شدید۔عظمت کے ساتھ شدّت کو بڑھا دیا۔:وہ عزّت والا ہے۔(المنٰفقون:۹) پس وہ اپنے رسول اور مومنوں کو ذلیل نہ کرے گا۔:وہ، اے یہودیو! تمہاری شرارتوں کی ضرور سزا دے گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء) :انجیل بھی بشارت دے چکی تھی نبوّتِ محمدؐیہ کے بارے میں۔ھُدًیکے یہی معنی ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۵) :کہا جا سکتا ہے کہ جو چیز ابھی نہیں ہوئی اس کی نسبت یہ کہاں سے اِطلاعیں آپ کے پاس پہنچیں۔فرمایا اﷲ پر کوئی چیز مخفی نہیں۔( حٰمٓ السّجدۃ :۵۴) (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء) :فرمایا کہ انسان باریک در باریک کام کرتا ہے تو روشنی میں کرتا