حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 443
اِس سورۂ شریف کا بعینہٖ وہی مطلب ہے جو سورۂ بقرۃ کا ہے۔اِس سورہ کا نام اٰلِ عمران ہے۔یہ اِس لئے کہ اﷲ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو موسٰیؑ کے ساتھ بہت تشبیہہ دی ہے اور موسٰیؑ بھی آلِ عمران ہی تھے۔ایک جگہ صریحًا فرمایا ہے: (المزّمّل:۱۶) اور یہ ایک آیت ایک ایسی سورث میں ہے جسے مسلمان اپنی اغراض کے لئے بپور وظیفہ پڑھتے ہیں۔اِسی آیت کے ساتھ فرمایا(المزّمّل:۱۸) صاف معلوم ہوتا ہے کہ آلِ عمران سے تشبیہ دینے میں بہت زور دیا ہے چنانچہ اِسی لئے موسٰی علیہ السّلام کا بیان قرآن مجید میں بار بار آیا ہے جس سے کم از کم میرے جیسا انسان نبی کریمؑ کے حالات پیدائِش سے لے کر موت تک نکال سکتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہؐ سے کسی نے پوچھسا تھا کہ آپؐ کے حالات آپؐ کے اخلاق کیا تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کُلُقُہُ الْقُرْاٰنُ۔