حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 442 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 442

(الشورٰی: ۳۱)پھر بھی بعض گستاخ لوگ اپنے دُکھوں کو خدا کے ذمّہ لگاتے ہیں۔:حدیث میں آیا ہے: اِس دعا کا نتیجہ تھا کہ نسیان پر مؤاخذہ نہیں ہوتا۔خطاکی مثال یہ ہے کہ بندوق ماریں ہرنی کو اور لگ جائے انسان کو۔: اصرؔکیا چیزہے۔اصرؔکے معنے غفلت کرنے کی وجہ سے کئی انسان شریر ہو گئے۔پھر اسی اصرؔ کے معنے نہ سمجھنے سے تقدیر کے مسئلے میںغلطی لگی۔اصرؔکے معنے ہیں ایسے فعل کا ارتکاب جس کے بعد انسان سُست و کاہل ہو جائے۔اصرؔ کہتے ہیں گرد ڈالنے کو۔حَبْسُ الشَّیِٔ۔اصرؔنام ہے ایسے عہد کا جس کے توڑنے سے اِنسان خیرات کے قابل نہیں رہتا۔پس اِس کے معنے یہ ہوئے کہ اے ہمارے مولا کریم! ہم کو ایسے افعال کا مُرتکب نہ کر جن کا یہ نتیجہ ہو کہ ہم تیرے حضور سے دھتکارے جائیں۔جیسے کہ پہلے لوگوں نے بد ذاتیاں کیں۔معاہدات کا نقض کیا اور مغضوب علیہم بنے۔ہم نہ بنیں۔:مولیٰ جب خدا کے لئے بولا جاوے تو اِس کے تین معنے ہیں۔۱۔مالک۔۲۔ربّ۔۳۔ناصر۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء)