حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 434 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 434

ہر ایک کو نہ چاہیئے کہ معاہدوں کو لکھا کرے بلکہ چاہیئے کہ معاہدہ کو وہ شخص لکھے جو ایسے معاہدوں کا لکھنے والا ہو اور معاہدہ کو اس انصاف کے ساتھ لکھے جس میں ضرورت کے وقت تمسّک میں نقص نہ نکلے اور تمسّک نویس کو تمسّک کے لکھنے میں کبھی انکار نہ ہؤا کرے کیونکہ کاتب کو اﷲ تعالیٰ نے فضل سے ایسا کام سکھایا۔پس چاہیئے کہ تمسّکات کو لکھے اور لکھاوے۔وہ جس نے دینا ہو اور ضرور ہے کہ لکھاتے ہوئے لکھا نے والا اﷲ سے ڈرتا رہے اور ذرّہ بھی اس میں کمی و نقص نہ کرے اور اگر لکھا نے والا کم عقل اور بچّہ اور لکھانے کے قابل نہیں تو اس کا سر براہ انصاف و عدل کے ساتھ لکھاوے اور اپنے معاملات پر دو مرد گواہ بنا لیا کرو۔اگر دو مرد گواہ نہ مِل سکیں تو ایک مرد اور دو عورتیں۔دو کا فائدہ یہ ہے کہ اگر ایک ان میں سے کچھ بھُول گئی تو دوسری اُسے یاد دلائے گی اور گواہ بُلانے پر انکار نہ کریں اور ایسے سُست نہ بنیو کہ تھوڑا یا بہتا میعادی معاملہ لکھنے میں چھوڑ دو۔اﷲ تعالیٰ کے یہاں پر انصاف کی باتیں ہیں اور جہاں گواہی کی ضرورت پڑے گی وہاں یہ باتیں بڑی مفید پڑیں گی اور ایسی تدبیروں سے باہمی بَد گمانیاں جاتی رہیں گی۔ہاں دستی لین دین اور نقدی کی تجارت میں تحریر نہ ہونے سے گناہ بھی نہیں۔مگر ہر ایک سَودے میں گواہوں کا پاس ہونا تو ضرور چاہیئے ( اگر اس پر عمل ہوتا تو چوری کی چیزیں لینے میں پولیس کی گرفتاری سے بہت کچھ امن ہو جاتا ) اور یاد رہے کہ کاتب اور گواہ کو ان کا ہر جانہ دو اگر نہ دو گے تو بدکار بنو گے۔خدا کا ڈر رکھو۔اﷲ تعالیٰ تمہیں آرام کی باتیں سکھاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ ہر شئے کو جانتا ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۶۶تا ۲۶۸) :جہاد میں ضرورت ہے روپیہ کی اور روپیہ کا حصول بعض کے نزدیک سُود پر منحصر ہے۔فرمایا کہ جو سُود لیتا ہے وہ اﷲ سے جنگ کرتا ہے۔ہاں لین دین کے معاملے میں کافی احتیاط ضروری ہے۔: یعنی کاتب کی تحریر عدالت سے وابستہ ہو اور قانون سلطنت کے ٹھیک مطابق ہو۔ہم نے ایک دفعہ پانسو روپیہ دیا اور جائیداد کی رجسٹری نہ کرائی۔چنانچہ وہ روپیہ بھی واپس نہ ملا۔حضرت صاحب نے فرمایا نور الدین نے دو گناہ کئے۔ایک تو یہ کہ اﷲ کے حکم کے مطابق وہ رجسٹری داخل خارج نہ کرائی۔دومؔ اپنے تساہل سے دوسرے کو گناہ کرنے کا موقع دیا۔انہیں شاید ۵۰۰ روپیہ کی فِکر ہے اور مجھے اِس بات کی کہ یہی ۵۰۰ روپیہ گناہ کا کفّارہ ہو جائے کِسی اَور شامت میں مُبتلا نہ ہوں۔