حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 423
۔مسئول کے لئے یہ دھوکہ۔مثلاًجیب میں روپیہ پیسہ ہیں مگر دل دینے میں مضائقہ کرتا ہے۔کئی عذرات سامنے آتے ہیں کہ آمدی کم ہے۔فلاں فلاں خرچ در پیش ہے پس دوں تو کیونکر دوں؟ احتیاج لازمِ حال ہے۔کنبہ بہت ہے یا پاس کچھ نہیں اور دل چاہتا ہے۔یہ ظاہرداری کا تقاضا ہے کہ کچھ دے۔اِسی طرح سائل یا تو ایسا ہے کہ واقعی محتاج ہے یا وہ بطور پیشہ و عادت کے مانگتا ہے۔جیسے کہ مَیں نے ایک عورت کو سونے کا زیور پہنے مانگتے دیکھا پوچھا تو کہا یہی ہمارا پیشہ ہے۔گویا یہ چار صورتیں ہیں۔اب اﷲ ان کے لئے دونکتے سکھاتا ہے اگر جیب میں ہے اور دے نہیں سکتا تو کوئی اچھی بات ہی کہہ دے جو اس کے حق میں مفید ہو۔ایسا ہی پاس کچھ نہیں تو قولِ معروف ہی اس کے بدلے میں کر دے۔یہ مسئول کے لئے ہے اور سائل کے لئے قولِ معروف یہ ہے کہ اپنے آپ کو سمجھائے۔باوجود ہونے کے کیوں سوال کرتا پھرتا ہے؟ اگر واقعی احتیاج سے سوال کرتا ہے تو بھی اپنے لئے قولِ معرو ف کرے کہ کیوں عجز اختیار کر رکھا ہے کوئی پیشہ اختیار کر۔ایسا ہی اگر مسئول کے پاس ہے اور دیتا نہیں تو استغفار کرے کہ جُودو سخا مثمر ثمراتِ لیّبہ کے لئے شرح صدر عطا ہو۔اگر پاس کچھ نہیں اور دینا چاہتا ہے تو بھی استغفار کرے کہ اﷲ تعالیٰ مجھے کشائِش دے یا سائل کے لئے استغفار کرے۔ایسا ہی وہ سائل جو ہے اگر باوجود مال کا مالک ہونے کے مانگتا ہے تو استغفار کرے کہ کیوں خواہ مخواہ ذلّت میں گرفتار ہے۔اگر واقعی ہے نہیں پھر بھی استغفار پڑھے کہ اﷲ اپنی جناب سے رزق دے اور سوال کی ذِلّت سے بچا رہوں۔غَنِیٌّ حَلِیْمٌ: اﷲ کو اپنی ذات کے لئے صدقوں کی کچھ پرواہ نہیں۔وہ حلیم ہے اور اَلصَّدَقَۃُ تُطْفِیُٔ غَضَبَ الرَّبِّ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء)