حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 422
لِوجہ اﷲ دے۔چنانچہ فرماتا ہے اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ۔ب۔وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثُ مِنْہُ (البقرۃ:۲۶۸)۔ج۔وَیَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ (البقرۃ:۲۲۰)۔د۔وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآئَ وَجْہِ اﷲِ (البقرۃ:۲۷۴)کِس طرح دے؟ پس جس کو دے اس پر احسان نہ جتائے۔اسے دُکھ نہ دے۔ظاہر دے تو یہ بھی اچھا اور اگر پوشیدہ دے تو یہ اس کے حق میں بہتر۔ارشاد ہوتا ہے(۱)لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی(البقرۃ:۲۶۵)(۲) اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنَعِمَّا ہِیَ وَ اِنْ تُخْفُوْھَا وَتُؤْ تُوْھَا الْفُقَرَآ ئَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ۔نَعِمَّا اورخَیْرٌ لَّکُمْکے فرق کو غور سے دیکھنا چاہیئے۔کِس کِس کو دے۔فقراء کو مساکین کو۔ان لوگوں کو جو اﷲ کی راہ میں رو کے گئے ہیں یعنی طلباء ، علماء جو محض دین کے کاموں میں مصروف ہوں اور اِس وجہ سے کوئی کَسب نہ کر سکتے ہوں۔ (البقرۃ:۲۷۴) (تشحیذالاذہان جلد۸ نمبراصفحہ ۳۲) : یہ خیرات کی برکات بتائی ہیں کہ مشکلات میں خیرات کرنے والے کو خوف اگر لاحق ہو تو وہ دُور کیا جاتا ہے اور پھر اسے حُزن نہیں ہوتا۔ایک مفسّر نے سخت غلطی کی ہے جو اِس آیت کی نسبت لکھ دیا ہے کہ صرف صحابہؓ کے لئے تھی اَب یہ بات نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء) :سائل سوال کرتا ہے تو اس وقت چار مشکلات ہو سکتی ہیں