حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 414
بوالفضل کی تصنیف جس میں آفتاب کو حضرت نیّرِ اعظم لکھا گیا ہے) تھا اِس لئے حضرت ابراہیمؑ نے اسے خوب جواب دیا کہ یہ آبادی و ویرانی تو اجرامِ سماوی کے اثر سے وابستہ ہے جب آپ بھی محی و ممیت ہیں تو گویا آپ کو دعوٰی ہے کہ سُورج پر بھی مَیں ہی حکمران ہوں اور یہ اجرام سب تمہارے ماتحت ہیں حالانکہ یہ اس کے اور اس کی جماعت کے عقائد کے خلاف تھا اِس لئے وہ یہ جواب سُنکرَّمبُہوت رہ گیا یعنی اگر سُورج تمہارے ماتحت ہے تو اپنا تصرّف دکھاؤ۔(تشحیذالاذہان جلد ۷نمبر۷ صفحہ۳۳۱،۳۳۲) : اِس آیتِ شریفہ میں اﷲ تعالیٰ نے یہ بھی سمجھایا ہے کہ انسان جب اﷲ کے حضور کامل یقین سے دعا کرتا ہے تو وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔دعا میں تین مشکلا ت لوگوں کو پیش آئی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ خدا کی خدائی اور اس کی حکمتوں پر ایمان نہیں لاتے۔قِسم قِسم کی خواہشیں کرتے ہیں جن کا نتیجہ ان کے حق میں اچھا نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ جب قبول نہیں کرتا تو وہ نادانی سے دعا ہی کے مُنکر ہو جاتے ہیں حالانکہ اگر ان کی یہ دعائیں قبول ہوں تو دُنیا فنا ہو جائے۔عورتوں ہی کو لو وہ بچّوں سے تنگ آ کر انہیں کِس طرح کوستی ہیں۔ایک عورت ایک نئی قِسم کی بَد عا دیا کرتی تھی۔وہ کہتی ’’ لوہے کا جھاڑو۔لوہے کا جھاڑو۔‘‘ مطلب یہ تھا کہ ایسا صفایا ہو کہ کوئی نام و نشان نہ رہے۔اِسی طرح گنوار زمیندار اپنے مویشیوں کے حق میں بَد دعائیں دیتے ہیں۔ادھر فریق ثانی بھی۔اب اگر دونوں کی دعائیں خدا تعالیٰ سُن لے تو ایک بھی نہ رہے۔پھر دوسری بات ہے کہ دعا ایک محنت ہے اور اپنے لئے ایک موت اختیار کرنا ہے۔وہ جب ایک خاص نقطہ تک پہنچتی ہے تو اسے قبولیّت کا جامہ پہنایا جاتا ہے۔بعض لوگ ورے ورے ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔مگر یہ نہیں ہوتا تو گھبرا اُٹھتے ہیں۔پھر بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اِس نکتۂ معرفت سے بے خبر ہیں کہ دعا ضائع نہیں جاتی بلکہ اگر وہ مقصد حاصل نہ ہو تو اس کا فائدہ ضرور ہے کہ معاصی کے نتائج اور آنے والی بَلاؤں سے بچا لیتی ہے۔یہاں اِن آیات میں جو مذکور ہے اس کی اصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل جب شرارت میں حد سے بڑھ گئے تو خدا تعالیٰ نے ان پر ذِلّت و مسکنت لیس دی۔وہ بابل میں جلاوطن کئے گئے۔پھر جب انہوں نے خدا کی طرف رجوع کیا تو ان میں حزقیل، عزرائیل، دانیال سے برگزیدہ پیدا ہوئے۔حزقیل نے ان کے لئے بہت دعائیں کیں اور گھبرا کر پکار اُٹھے کہ اب یہ مُردہ قوم کب زندہ ہو گی۔یہ ویرانہ کب آباد ہو گا۔اﷲ تعالیٰ