حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 39

وہ کچھ مان کر آگے چلتا ہے تو پھر بڑے بڑے علوم و فنونِ حقّہ کا دروازہ اس پر کُھل جاتا ہے۔محکمہ پولیس جب کسی مقدمہ کا سراغ لگاتا ہے تو وہ بعض اَوقات شریر لوگوں کی بات پر بھی اعتبار کر لیتا ہے اور پھر ان فرضی باتوں کے ذریعے سے مقدمات کی اصل حقیقت کو پا لیتا ہے۔غرضیکہ دیکھا جاتا ہے کہ اکثر فرضی باتوں کو مان کر انسان بڑے بڑے علوم حاصل کر لیتا ہے۔اِسی طرح اگر دہریہ طبع لوگ اﷲ تعالیٰ کو فرضی مان کر ہی آنحضر ت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق کام کریں تو دیکھ لیں کہ کیا کیا نتائج نکلتے ہیں اور وہ لوگ جن کو براہِ راست مکالمہ الہٰیہ کا شرف حاصل نہیں ہے ان کے لئے اﷲ تعالیٰ ابھی غیب میں ہی ہے اگر وہ بھی فرض کر کے اﷲ تعالیٰ سے دعائیں شروع کردیویں تو نتائجِ حَسنہ پالیویں گے۔ایمان بالغیب کی حقیقت کو حضرت احمد مُرسل یزدانی مسیح موعود علیہ الصّلٰوۃ والسّلام نے اپنی کتاب’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ کے صفحہ ۳۳۰ میں اور اپنی دوسری مقدّس تالیفات میں بھی دکھایا ہے وہاں دیکھ لیا جاوے کہ انسانی نجات کے واسطے کِس قدر ضرورت ایمان بالغیب کی ہے اور اگر یہ نہ ہو تو پھر دُنیا میں کوئی بھی ایسا عمل ہرگز نہیں ہے کہ جس کے ذریعے سے انسان انعاماتِ الہٰی کا مستحق ہو سکے۔کیونکہ جیسے انسان دُور سے ایک دھواں دیکھ کر یہ گمان کرتا کہ وہاں آگ ہو گی اور اس وقت اس کا ایک ظنّی عِلم ہوتا ہے جب تک وہ اس دھوئیں کی طرف قدم بڑھا کر نہ چلے اور اس آگ میں ہاتھ ڈال کر نہ دیکھ لیوے تب تک یقینی علم کا مرتبہ نہیں حاصل کر سکتا۔در اصل ایسی علمی حالت کا نام ایمان ہے۔اسی طرح بعض قرائِن مرحجہ سے اس کو ایک ظنّی عِلم خدا کی ہستی کا پیدا ہوتا ہے وہ اس کے دل میں ایک جوش اس ہستی کا یقینی علِم حاصل کرنے کے لئے پیدا کرتا ہے جو کہ اس کی ترقّیات کا موجب ہوتا ہے۔ظنّی امور سے یقینی امور کی طرف آنے کے لئے چونکہ انسان کو ضرور کچھ نہ کچھ محنت کرنی پڑتی ہے اور اس کے دِل میں ایک اضطراب ہوتا ہے اِس لئے متّقی کی دوسری صِفت یہ فرمائی وہ نماز کو قائم کرتے ہیں۔(البدر ۲۳؍۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء) ایمان کیا ہے خداوند تعالیٰ نے فرمایا   (الحجرات:۱۶) مومن تو وہی ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شک میں نہ