حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 406 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 406

کے حملوں سے بچایا۔یہ سچ ہے کہ بعض برگزیدگانِ خدادُنیا میں وقتًا فوقتًا پَیدا ہوئے ہیں اور سوئِ اتفاق اور گردشِ تقدیر سے خدا کی راہ میں اور اعلائے کلمتہ اﷲ کی کوشِش میں شہید ہوئے ہیں اور بعض لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے خللِ دماغ کی وجہ سے اِس امر کا دعوٰی کیا جس کی تکمیل ان سے نہ ہو سکی۔الغرض مخبوط بھی گزرے ہیں اور مجذوب بھی ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی مجنونانہ حرکات کی سزا پائی مگر اِس سے یہ کہاںلازم آتا ہے کہ مثلاً اگر حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب ہوئے یا مسیلمہ کذّاب اپنی کذّابیّت اور مجذوبیّت کی سزا کو پہنچا تو معاذ اﷲ آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلم کو بھی ان کی تقلید کرنا فرض تھا اور بغیر اپنی رسالت کے تمام و تکمیل کے شہید ہو جانا لازم تھا؟ قوانینِ اسلام کے موافق ہر قِسم کی آزادی مذہبی اور مذہب والوں کو بخشی گئی جو سلطنتِ اسلام کے مطیع و محکوم تھے۔(سورہ البقرۃ:۲۵۷) دین میں کوئی اجبار نہیں۔یہ آیت کُھلی دلیل اِس امر کی ہے کہ اسلام میں اور اہلِ مذاہب کو آزادی بخشنے اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے۔(فصل الخطاب ایڈیشن دوم جلد اوّل صفحہ۸۳،۸۴) اِسلام کے معنے صُلح کے ساتھ زندگی بسر کرنا، چَین سے رہنا۔کیونکہ یہ لفظ سَلم سے مُشتق ہے جس کے معنے صُلح اور آشتی کے ہیں۔بعضے پادریوں کی دشمنانہ تحریر نے، مَیں سچّ کہتا ہوں، آپ کو دھوکہ دیا ہے۔جبرو اِکراہ سے اِسلام اور تصدیق قلبی کا حصول ممکن نہیں۔قرآن کی دوسری سورۃ کو جو مدینہ میں نازل ہوئی اور جس میں جہاد کا حکم ہوا پڑھ لیجئے اور غور کیجئے آپ کا کلام کہاں تک سچّ ہے (سورہ البقرۃ:۲۵۷) اِس میں زبردستی نہیں اور حق و باطل واضح ہو گیا۔اِسلام میں شرط ہے کہ آدمی صدق دِل سے باری تعالیٰ کی الوہیّت اور اس کی معبودیّت اور اس کے رسولوں کی رسالت وغیرہ وغیرہ ضروریاتِ دین پر یقین لاوے تب مسلمان کہلاوے اور ظاہر ہے کہ دلی یقین جبرو اِکراہ سے کبھی ممکن نہیں ہے۔مَیں بڑی جرأت سے کہتا ہوں کہ حضور علیہ السّلام اور ان کے راشد جا نشینوں کے زمانے میںبھی کوئی شخص جبر اور اِکراہ سے مسلمان نہیںبنایا گیا بلکہ محمود غزنوی اور عالمگیر کے کلزمانے میں بھی کوئی شخص عاقل و بالغ جبر سے مسلمان نہیں کیا گیا۔دُنیا میں تاریخ موجود ہے۔صحیح تاریخ سے اِس الزام کو ثابت کیجئے۔مَیں نے زمانۂ نبوی اور خلافتِ راشدہ کے وقت اور محمود، عالمگیرکی تاریخ کو اچھی طرح دیکھ بھال کر یہ دعوٰی کیا ہے۔