حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 405
اُوپر چڑھانا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن آخر وہ بڑے زور سے (تشحیذالاذہان جلد ۸نمبر۹ صفحہ۴۴۴) اُوپر کو چڑھتا ہے۔یہی اصل ترقّی اور تنزّل کی جان ہے یا صعود اور نزول کے اندر ہے۔انسان جب بدی کی طرف جھُکتا ہے تو اس کی رفتار بہت سُست اور دھیمی ہوتی ہے لیکن پھر اس میں اس قدر ترقّی کرتا ہے کہ خاتمہ جہنّم میں ہوتا ہے یہ نزول ہے اور جب نیکیوں میں ترقّی کرنے لگتا اور قُربِ اِلی اﷲ کی راہ پر چلتا ہے۔ابتداء ًمشکلات ہوتی ہیں اور ظالم لنفسہٖ ہونا پڑتا ہے۔مگر آخر جب وہ اس میدان میں چل نکلتا ہے تو اس کی قوّتوں میں ضرور ترقّی ہوتی ہے اور وہ اِس قدر لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن:اِسلام میں جبر نہیں۔ہدایت اور گمراہی میں کُھلافرق ہو گیا ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۸۰) ہمیں کتب مغازیؔ میں (خواہ کیسی ہی ناقابلِ و ثوق کیوں نہ ہوں) کوئی ایک بھی ایسی مثال نظر نہیں آتی کہ آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے کسی شخص، کسی خاندان ، کسی قبیلے کو بزور شمشیر و اجبار مسلمان کیا ہو۔سرولیم میور کا فقرہ کیسا صاف صاف بتاتا ہے کہ شہر مدینہ کے ہزاروں مسلمانوں میں سے کوئی ایک شخص بھی بزورو اِکراہ اسلام میں داخل نہیں کیا گیا اور مکّہ میں بھی آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلّم کا یہی رویّہ اور سلوک رہا بلکہ ان سلاطینِ عظام (محمود غزنوی، سلطان صلاح الدین، اورنگ زیب) کی محقّقانہ اور صحیح تواریخ میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ کسی شخص کو انہوں نے بالجبر مسلمان کیا ہو۔ہاں ہم ان کے وقت میں غیر قوموں کو بڑے بڑے عہدوں اور مناصب پر ممتاز و سر فراز پاتے ہیں۔پس کیسا بڑا ثبوت ہے کہ اہلِ اسلام نے قطع نظر مقاصدِ ملکی کے اشاعتِ اِسلام کے لئے کبھی تلوار نہیں اُٹھائی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دشمنوں، اسلام کے مخالفوں نے اکثر یہ طعن کیا ہے کہ آپ کا دین بزور شمشیر شائع ہوا ہے اور تلوار ہی کے زور سے قائم رہا۔جن مؤرخین عیسائیوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا تذکرہ یعنی لائف لکھی ہے آپ پر طعن کرنا انہوں نے اپنا شعار کر لیا ہے اور ان کے طعن کی وجہ فقط یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپؐ نے اپنے تئیں اور اپنے رُفقا کو دشمنوں