حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 400 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 400

اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ‘ وَ رَسُوْلُہ‘۔بے رَیب سیّد الاوّلین والآخرین محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کامل صفات والا انسان کُل سچائیوں اور علومِ حقّہ کا لانے والا ہے۔جب یہ اقرار اور وہ ایمان ہو تو اس کا َنتیجہ یہ ہو گا کہ سچّی نیازمندی کے ساتھ جنابِ الہٰی کے حضور پیش ہو اور یہی نماز ہے۔نماز ظاہری پاکیزگی اور ہاتھ منہ دھونے اور ناک صاف کرنے اور شرم گاہوں کو پاک کرنے کے ساتھ یہ تعلیم دیتی ہے کہ جیسے مَیں اس ظاہر پاکیزگی کوملحوظ رکھتا ہوں اندرونی صفائی اور پاکیزگی اور سچّی طہارت عطا کر اور پھر اﷲ تعالیٰ کے حضور سُبحانیت، قدوسیت، مجدیت پھر ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت اور اس کے مِلک و ملک میں تصرّفات اور اپنی ذمّہ داریوں کو یاد کر کے کہ اس قلب کے ساتھ ماننے کو یتار ہوں۔سینہ پر ہاتھ رکھ کر تیرے حضور کھڑا ہوتا ہوں۔اِس قِسم کی نماز جب پڑھتا ہے تو پھر اس میں وہ خاصیّت اور اثر پیدا ہوتا ہے جو اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِمیں بیان ہؤا ہے۔پھر پاک کتاب کا کچھ حِصّہ پڑھے اور رکوع کرے اور غور کرے کہ میری عبودیت اور نیازمندی کی انتہا بجز سجدہ کے اَور کوئی نہیں۔جب اِس قسم کی نماز پڑھے تو وہ نیازمندی اور سچّائی جب اعضاء اور جوارح پر اپنا اثر کر چکی تو اَور جوش مار کر ترقی کرے گی اور اس کا اثر مال پر پڑے گا۔وحدت کی ضرورت اور ایک مقررہ حصّہ اپنے مال کا دے گا جیسے آج کے دِن بھی صدقا الفطر ہر شخص پر ، غنی ہو ، حرّ ہو یا عبد۔غرض سب پر واجب ہے کہ وہ صدقہ دے تاکہ اَوروں کے لئے طہر کا کام دے اور نماز سے پہلے ایک مقام پر جمع کرے۔اِس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ وحدت پیدا ہو۔اِسلام کے ہر امر میں وحدت کی رُوح پھُونکی گئی ہے۔جب تک وحدت نہ ہو اس پر اﷲ کا ہاتھ نہیں ہوتا جو جماعت پر ہوتا ہے۔مَیں درختوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ اگر ایک ایک پتّہ کہے کہ مَیں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں اور اپنے رَبّ سے مانگتا ہوں وہ مجھے سر سبز کر دے گا۔کیا وہ الگ ہو کر سر سبز رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ مُر جھا جائے گا اور اَدنیٰ سے جھونکے سے گِر جائے گا اِس لئے ضروری ہے کہ ایک شاخ سے اس کا تعلق ہو اور پھر اس شاخ کا کِسی بڑی شاخ سے اور اس کا کِسی بڑے تنے سے تعلق ہو جو جَڑ اور اس کی رگوں سے اپنی خوراک کو جذب کرے۔یہ سچّی مثال ہے۔جب اﷲ تعالیٰ کِسی چیز کا بِیج لگاتا ہے تو جو شاخ اس سے الگ ہو کر بار آور اور ثمردار ہونا چاہے وہ نہیں رہ سکتی خواہ اُسے کتنے