حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 399 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 399

خوش ہوتا ہے۔اِسی طرح ہر حرفہ و صنعت والا دکاندار۔غرض کوئی نہیں چاہتا کہ محنت کا بدلہ نہ ملے اور بچاؤ کا سامان نہ ہو۔جب یہ فطرتی امرہے تو اس کو بھی اﷲ تعالیٰ نے ایمان کا جُزو رکھا ہے کہ جزا و سزا پر ایمان لاؤ اﷲ مالک یَوم الدّین ہے۔روزِ روشن کی طرح اس کی جزائیں سزائیں ہیں اور وہ مخفی نہ ہوں گی اور مالکانہ رنگ میں آئیں گی جیسے مالک اچھے کام پر انعام اور بُرے کام پر سزا دیتا ہے۔اِس حصّہ پر ایمان لا کر انسان کامیاب ہو جاتا ہے مگر اس میں سُستی اور غفلت کرنے سے ناکام رہتا ہے اور قُربِ الہٰی کی راہوں سے دُور چلا جاتا ہے۔دوسرا سوال پھر دوسرا سوال جو جبرائیل نے تعلیم الدّین کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے کیا اور آپ نے اس کا جواب دیا وہ ہے مَاا لْاِسْلَامُ ؟اِس کا جواب جو پاک انسان خاتم الانبیاء و خاتم الاولیاء خاتم ُالکمالات کی زبان سے نکلا وہ یہ ہے اَنْ نَشْھَدَ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ۔جو بات اِنسان کے دِل سے اُٹھتی ہے ضرور ہے کہ اس کا اثر اس کے اعضاء و جوارح اور مال پر پڑے۔کون نہیں سمجھتا کہ شجاعت اگر اندر ہو تو وہ اپنے ہاتھ، بازو اور اعضاء سے محل و موقع پر اس کا ثبوت نہ دے گا۔اگر وہ موقع پر بھاگ جاتا اور بُزدلی ظاہر کرتا ہے تو کوئی اس کو شجاع نہیں کہہ سکتا۔اِسی طرح سخاوت ایک عمدہ جوہر ہے لیکن اگر اس کا اثر مال پر نہیں پڑتا تو وہ سخاوت نہیں بُخل ہے۔ایسا ہی عفّت ایک عمدہ صفت ہے ضرور ہے کہ جس میں یہ صفت ہو وہ بَد نظری اور بے حیائی سے بچے اور تمام فواحش اور ناپاک کاموں سے پرہیز کرے۔اِسی طرح جس کے اندر قناعت ہو ضروری ہو گا کہ وہ دوسروں کے مال پر بے جا تصرّف سے پرہیز کرے گا۔غرض یہ ضروری بات ہے کہ جب اندر کوئی بات ہو تو اس کا اثر جوارح اور مال پر ضرور ہوتا ہے۔پس اگر سچّی نیازمندی ، فرمانبرداری، تحریکِ ملائکہ، کتابوں، ماموروں، خلفاء اور مُصلحوں کی اطاعت میں ہو اور دِل میں یہ بات ہو تو زبان پر ضرور آئے گی اور وہ اظہار کرے گا۔اگر سچّائی سے کسی اِنسان کو مانا ہؤا ہو اور اس کے اظہار سے مضائقہ ہو تو یاد رکھو دِل کمزور ہے۔اِسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اﷲ کے اسماء پر کامل یقین ہو اور اس کے رسولوں پر، ملائکہ پر اور کتابوں اور انبیاء پر یقین ہو اور ایسا ہی اس یقین میں اس کے نوّاب اور اﷲ کا قُرب داخل ہے تو اس یقین کا اثر زبان پر آتا ہے اور وہ ایک لذّت کے ساتھ کہہ اُٹھتا ہے اَشْثَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہ‘ لَا شَرِیْکَ لَہ‘ وَ اَلشْھَدُ