حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 38
۔اِس سے مراد اﷲتعالیٰ بھی ہے کیونکہ وہ ایک نہاں درنہاں ہستی ہے جو اِن آنکھوں سے نہیں دیکھی جاتی اِن ہاتھوں سے نہیں ٹٹولی جاتی۔اِن کانوں سے اس کی آواز نہیں سُنی جاتی۔یہ اس کی صفت ہے منجملہ اَور صفات کے۔اِس کے معنے تنہائی کے بھی ہیں جیسے فرمایا (الملک:۱۳) یعنی ایمانداری کی یہ نشانی ہے کہ عالمِ تنہائی میں جب اس کے پاس کوئی نہیں ہوتا نہ کوئی رشتہ دار، نہ برادری، نہ قوم، نہ شاہی چوکیدار وغیرہ تو اس وقت جن جرائم کو وہ کر سکتا ہے ان کو اِس لئے نہیں کر تا کہ خدا کی ہستی پر اُسے یقین ہے اور وہ جانتا ہے کہ اگر کوئی اَور نہیں دیکھتا تو خدا کی ذاتِ پاک دیکھ رہی ہے۔ایسے عالمِتنہائی میں گناہوں سے بچنا دراصل ایمان کا ثبوت ہے اور اس کا پتہ ماہِ رمضان میں بھی خوب مِلتا ہے جبکہ ایک شخص اپنے گھر کے اندر کوٹھڑی میں بیٹھا ہے پینے کے لئے سرد پانی، کھانے کے لئے نعمتیں اور شہواتی ضرورتوں کے لئے بیوی موجود ہے۔کوئی اُسے دیکھنے والا نہیں دِل بھی للچاتا ہے مگر پھر خدا تعالیٰ کے خوف سے وہ پرہیز کرتا ہے۔اکثر لوگ جب اپنے محلہ یا شہر کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں چلے جاتے ہیں تو شرارتوں اور بدکاریوں میں دلیر ہو جاتے ہیں۔اِس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اپنے مقام پر ان کو برادری اور قوم وغیرہ کا ڈر ہوتا ہے جب وہ نہ ہو تو پھر کُھلم کُھلا وہ جوچاہتے ہیں کرتے ہیں۔اگر ان کا ایمان اﷲ تعالیٰ کی مقتدر ہستی پر ہوتا تووہ جہاں رہتے گناہ سے بچتے۔یہ ایک لطیف حقیقت سے معلوم ہوتی ہے۔وہ تقوٰی جو کہ ہر ایک کامیابی اور فلاح کی جَڑ ہے اس کا ابتداء کیوں سے شروع ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک کامیابی خواہ دُنیا کی ہو خواہ دین کی، اس کا اصل اصول ایمان بالغیب ہی ہے اور اسی کے ذریعے سے انجام کار بڑے بڑے علوم اور باریک در باریک اسرار کا پتہ لگتا ہے۔مثال کے طور پر دیکھو کہ اگر ایک لڑکا ابتدائی قاعدہ شروع کرتے وقت اگر الف کو الف نہ مانے اور اُستاد سے کہے کہ تم اسے الف کیوں کہتے ہو کچھ اَور نام لو تو کیا وہ کچھ ترقی کر سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔بہرحال اُسے ماننا پڑے گا کہ جو کچھ استاد کہتا ہے وہ ٹھیک ہے تو ہی ترقّی کرے گا۔پھر جس قدر علوم۔ریاضی، اقلیدس، الجبرا اور جغرافیہ، طبعی وغیرہ ہیں ان میں جب تک اوّل اوّل کچھ باتیں فرضی طور پر نہ مان لی جاویں تو آگے انسان چل ہی نہیں سکتا۔ابتدا میں جب