حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 392
کا سبق دیتا ہے پھر بھی اگریہ شرک میں گرفتار رہیں تو ان کی بَد قِسمتی۔کیا خوب فرمایا (الاعراف:۱۴۱) تم خود جہاں والوںسے افضل اور پھر انہی میں سے کوئی چیز تمہاری معبود بنے؟ پھر اِسلام میں عام اخلاق کی نسبت دیکھو کہ شراب سے بڑی سختی کے ساتھ منع کیا کیونکہ یہ سب بُرائیوں کی جَڑ ہے۔ایک شخص ایک عورت پر عاشق ہو گیا۔اس نے کہا وصل کی شرط میں اس بُت کی پرستش کرو۔۲۔خاوند کو قتل کر دو۔شراب پی لو۔اس نے کہا کہ ایک شراب پینا مان لیتا ہوں باقی بہت خوفناک گناہ کے افعال مَیں نہ کروں گا۔جب شراب پی تو پھر دوسری چیزوں کا بھی مرتکب ہو گیا۔اِسلام کا تیسرا اصول پَردے کی تعلیم ہے۔مَیں نے کسی کتاب میں جو خدا کی طرف منسُوب کی جاتی ہے یہ تعلیم نہیں پائی۔ اور(النّور:۳۱،۳۲) مومن مرد اور عورتیں نیچی اور نیم باز نگاہیں رکھنے کی عادت ڈالیں۔دیکھا جماع الاثم(خمر) اور حبائل الشیطان ( عورت ) سے کِس طرح روکا۔پھر نماز کی تاکید کی۔جو شخص پانچ نمازوں کا پابند ہے وہ کبیرہ گناہ شراب وغیرہ کا اِرتکاب بھی نہیں کرے گا۔پھر اسلام میں مالِ حرام سے ممانعت کی۔سراب وغیرہ کا پینا مالِ کثیر پر موقوف ہے اور مالِ کثیر زیادہ تر طریقِ حرام ہی سے آتا ہے اِس لئے منع کیا۔نبی کریم پلی ا علیہ وسلم کی دُعا ہے اَللّٰھُمَّ ارْزُقْ اٰلَ مُحَمَّدٍ قُوْتًا۔پھر اسلام میں جزا و سزا کا مسئلہ ہے۔یہ بھی کُل گناہوں سے روکنے والا ہے۔پھر اسلام کا یہ اصل کہ وہ تمام پسندیدہ امور کے کرنے اور قبیحہ امور کے نہ کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ایک موقع پر فرما رہے تھے (اٰل عمران:۱۱۱) ایک قوم نے اپنا سفیر واسطے تحقیق دینِ اسلام کے بھیجا تھا وہ یہ کلمہ سمنتے ہی واپس گیا اور اپنی قوم سے جا کر کہا سب مسلمان ہو جاؤ۔وہ حیران ہوئے تو اس نے بتایا کہ جس مذہب کا اصل امر بالمعروف ،نہی عن المنکر ہو وہ کیونکر بُرا ہو سکتا ہے بلکہ اس میں نہ داخل ہونے والا بُرا ہے۔: طاغوت طغووت سے نکلاہے۔حدبندی سے آگے بڑھنے والے کو طاغی کہتے ہیں۔سَیلاب کو بھی طُغیانی اِسی لئے کہتے ہیں کہ پانی ندی کی حدِ مقررہ سے باہر نکل کر اُچھلتا ہے۔شریعت نے ہر بات کے لئے حد رکھی ہے پس جو اس حد سے نکلا ہے وہ طاغی ہوا اور جو