حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 388
نہ دیتے۔مگر وہ ایسا نہیں کرتے کیونکہ وہ جبر کرنے والا نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍مئی ۱۹۰۹ء) فَضَّلْنَا:بحث فضیلت باعتبار تعلّقاتِ روحانی و خدماتِ دینی۔اﷲ کو علم ہے۔اٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ:یہ سورۃ مدنی ہے۔یہود کے خلاف مسیحؑ کی فضیلت کا اظہار ضروری تھا۔بِرُوْحِ الْقُدُسِ: کلامِ پاک وَلَوْشَآئَ اﷲُ:جبراً۔مگر اﷲ نے اِنسان کے ایسے قوٰی بنائے ہیں کہ وہ اپنی مَقدرَت سے بعض کام کرتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۳،۴۴۴) :ایک دِن ایسا آنے والا ہے کہ وہاں نہ کوئی نئی بیع ہو سکے گی نہ خلّت نہ شفاعت۔یہاں بیع ، خلّت ، شفاعت کی مطلق نفی ہرگز نہیں ہے۔عربی میں لَا دو طرح کے آتے ہیں۔ایک وہ جس کے بعد تنوین آتی ہے اور ایک وہ جس کے بعد تنوین نہیں آتی۔پہلے کی مثال یہی آیت ہے اور دوسرے کی مثال(البقرۃ:۱۹۸)اِن دونوں لَا میں فرق ہے۔تنوین نہ ہو تو اس کے معنے ہیں’’ بالکل نہیں۔‘‘ لَا نفی جنس کا ہے اور اگر تنوین ہو تو اس سے مراد ہے بعض صورتوں میں نہیں۔یہ لَا مشبّہ بہ لَیْسَہے۔اَب چونکہ یہاں تنوین ہے اِس لئے یہاں بیع کی مطلق نفی نہیں۔اِسی لئے دوسرے مقام پر فرمایا(التوبۃ:۱۱۱)اور نہخُلَّۃ کی مطلق نفی ہے۔چنانچہ فرمایا