حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 37
متّقی کو اﷲ ہر ایک تنگی سے کوئی نہ کوئی مخلصی دے دیتا ہے۔فرمایا ( الطلاق:۲۰) ( جو اﷲ سے ڈر کر اس کی نافرمانی سے بچتا ہے تو خدا اس کے لئے خلاصی کی راہ نکال دیتا ہے ) متّقی کو اﷲ ایسی راہوں سے رزق دیتا ہے کہ اس کو خیال تک نہیں ہوتا۔متّقی کو اﷲ ایسا امتیازی نشان دیتا ہے کہ اہل دُنیا سے اس کو ممتاز کر دیتا ہے۔فرمایا(الانفال:۳۰) ( اگر تم تقوٰی کرو گے تو اﷲ تمہارے لئے مابہ الامتیاز بنا دے گا) اﷲ علیم متّقی کا معلّم ہوتا ہے۔فرمایا وَاتَّقُوا اﷲَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اﷲُ(البقرۃ:۲۰۳) ( اﷲ سے تقوٰی کرو اور اﷲ تم کو تعلیم دے گا) متقی کو جنّت ملتی ہے اور جو چاہے گا وہی اس کو دیا جائے گا۔۔ (النّحل:۳۱،۳۲)(متقیوں کا گھر کیا ہی عمدہ ہے اور وہ عدن کے جنّت ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے۔ان کے نیچے نہریں بہتی ہونگی ان کے لئے ان میں وہ سب کچھ مہیّا ہو گا جو کہ وہ چاہیں گے۔اﷲ اسی طرح متقیوں کو جزادیگا) (رسالہ تعلیم الاسلام قادیان بابت ماہِ ستمبر ۱۹۰۶ء) ۔متّقی کون لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔غیب الغیب تو اﷲ کی ذات ہے پھر مابعدالموت حالات۔پھر ملائکہ، رسول اور اس کی کتابیں اسی میں شامل ہیں۔رسول بحیثیّت انسان ہونے کے اس کی ذات غیب میں داخل ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍فروری ۱۹۰۹ء) ایمان لاتے ہیں۔ایمان کہتے ہیں ماننے کو۔اِس طرح سے ماننا کہ جو دِل کی بات ہے وہ دِل سے مانی جاوے۔جو ہاتھ سے ماننے کی ہے وہ ہاتھ سے مانی جاوے۔غرض اِسی طرح زبان، آنکھ، کان اور ہر ایک اعضاء سے جو بات حسب فرمودۂ الہٰی ماننے کی ہے وہ مانی جاوے۔اعضاء سے اِس طرح مانا کرتے ہیں کہ اِس بات یا امر کو عملاً کر کے دکھلا دیا جاوے۔