حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 387 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 387

:کلام تو سب پیغمبروں سے ہؤا مگر بعض کو مخصوص، بوجہ کثرت کلام کیا۔:کُھلی باتیں۔عیٰسیؑ کی تعلیم اخلاق کی تھی اور اخلاقی رنگ کا وعظ ہر مذہب میں مقبول ہوتا ہے اِس لئے اسیبَیِّنٰت فرمایا۔:اس اخلاقی تعلیم کو اپنے پاک کلام سے مؤیّد کیا۔رُوح القدس کبھی کلام لانے والے فرشتے کو بھی کہتے ہیں مگر عام معنے یہی ہیں۔پاک کلام۔قرآن شریف میں ہے  (الشّورٰی:۵۳) ایک دوسری جگہ فرمایا (النحل:۳) :یعنی اگر کوئی لڑائی کرتا تو ہم اس کے ہاتھ کوشل کر دیتے۔بَدزبانی کرتا تو زبان بند کر دیتے۔مگر بندوں کو اﷲ نے نہ مجبور پَیدا کیا اور نہ ان کے اختیارات کو چھینا بلکہ مَقدرَت عطا کی ہے۔:جب خدا نے جبر نہ کیا۔اختیارات نہ چھینے تو ان لوگوں نے تو اس مقدرت کے سبب شرارتیں کیں۔ہم زور سے کام لیتے تو وہ نہ لڑتے مگر جب ہم نے ہدایت پر مجبور نہ کیا تو لڑنے اور گمراہی پر کیوں مجبور کرنے لگے۔:مگر کچھ ایسے تھے جنہوں نے ایمان کے مطابق عمل کیا۔:بعض ایسے تھے جنہوں نے امن میں خلل ڈالا۔امن کی تعلیم کا انکار کیا۔:جنابِ الہٰی تو ایسی طاقت رکھتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہ قدرت