حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 36

کھاتے اور لوگوں سے معاف کرتے ہیں اور اﷲ مخلصوں سے محبّت کرتا ہے اور جو کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں یا اپنی جانوں پر کوئی ظلم کرتے ہیں تو معًا اﷲ کو یاد کرتے ہیں پھر اس سے مغفرت مانگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور اﷲ کے سوا اَور کون ہے گناہوں کی مغفرت کرنے والا اور کئے ہوئے پر جان کر اصرار نہیں کرتے) اور ایک اَور مقام پراتَّقَوْاکے بعد فرمایا۔ (اٰلِ عمران۱۷،۱۸) ( جو کہتے ہیں اے ہمارے ربّ! ہم ایمان لائے ہیں پس ہمارے گناہ معاف کر اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔اور صبر کرنے والے اور سچّ بولنے والے اور عبادت بجا لانے والے اور خرچ کرنے والے اور سحریوں کے وقت استغفار کرنے والے ) پھر ایک اَور محل پر(انبیاء:۴۹) کے بعدفرمایا(انبیاء:۵۰)(جو غیب میں اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں اور اس گھڑی سے خوف کرنے والے ہیں) پھر ایک جگہ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ الخ کے بعد فرمایا(الذاریات:۱۷ تا ۲۰)( بے شک وہ اس سے پہلے مخلص تھے۔رات سے بہت تھوڑا آنکھ لگاتے تھے اور سحریوں کے اَوقات مغفرت مانگتے تھے اور ان کے مالوں میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں کا حِصّہ تھا) اور تقوٰی کے آثار جو قرآنِ مجید نے بیان فرمائے ہیں اور وہ یہ ہیں۔تقوٰی سے انسان اﷲ تعالیٰ کا محبوب ہو جاتا ہے۔فرمایا  ( توبہ:۴) ( بے شک اﷲ متّقیوں سے محبت کرتا ہے)اﷲ متقی کا ولی ہوتا ہے۔فرمایا  َ( جاثیہ:۲۰) ( اور اﷲ متّقیوں کا سر پرست ہوتا ہے)۔اﷲ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔فرمایااِ(البقرۃ:۱۹۵)(بے شک اﷲمتقیوں کے ساتھ ہوتا ہے) متقی کی اﷲ قبول کرتا ہے فرمایا(المائدہ:۲۸)( اﷲ تو متّقیوں ہی سے قبول کیا کرتا ہے ) عاقبت اور آخرت اور اچھا انجام متّقی کیلئے ہوتا ہے فرمایا( الاعراف:۱۲۹) (اور آخرت اﷲ کے نزدیک متّقیوں کیلئے ہے ) (الزخرف:۳۶)( اور آخرت اﷲ کے نزدیک متّقیوں کیلئے ہے ) (ص ٓ:۵۰) ( بے شک متّقیوں کے لئے اچھا انجام ہے)