حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 371 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 371

کھانا دے دیا کرے کیونکہ اسے پھر رکھنے کی امّید نہیں۔پھر نماز ہے اِس کے لئے اجازت ہے وضو کر کے نہیں پڑھ سکتے تو تیمم کر کے۔اُٹھ کے نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کے پڑھ لیں۔بیٹھ کر نہیں تو لیٹ کر۔اِن سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ نے احکامِ شریعت میں انسان کی برداشت کو مدِّنظر رکھا ہے۔اِسلام میں کوئی مسئلہ تثلیث کی مانند نہیں کہ ایک۔ایک۔ایک کو ایک ماننا پڑتا ہو۔نہ کفّارہ کا مسئلہ ہے کہ بدی کا اِرتکاب کرے زیدؔ اور سزا دی جائے بکرؔ کو۔نہ اس میں یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ انگور کا پانی اور روٹی واقعی مسیح کا لہو بن جاتا ہے نہ اس میں بُت پرستی ہے جو بہت ہی بودا عقیدہ ہے۔کیونکہ جب کُل چیزیں انسان کی خام ہیں اور وہ مخدوم نہیں بن سکتیں تو معبود کِس طرح بن سکتی ہیں۔باوجود اِس تعلیم کے مَیں نے اکثر بدمعاش شریر النّفس لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ بدکاری کے بعد یہ عُذر کرتے ہیں کہ خدا نے مجھ سے ایسا کروا دیا ؎ در کُوئے نیک نامی مارا گذر ندادند گر تُو نمے پسندی تغییر کُن قضارا اگر یہ جواب صحیح ہو تو پھر تمام رسالتیں باطل ٹھہرتی ہیں اِسی واسطے فرماتا ہے: ۔(البقرۃ ؔ ۲۸۷) :اگر دونوں باہمی رضامندی اور باہمی مشورہ سے دُودھ چھُڑا دیں تو کوئی گناہ نہیں۔:بس اصل حقیقت تو یہ ہے کہ خواہ جہاد کے مسئلے ہوں یا تمدّن و معاشرت کے ، ان میں بہر حال تقوٰی مدِّ نظر رکھو۔اب متّقی بننے کا ایک گُر بتایا۔:جب تم کوئی کام کرو۔کوئی بھی ہو۔اصولاً تین نَوع میں کُل کام آ سکتے ہیں۔غضب و انتقام ایکؔ۔غرض دنیوی حرص دوؔ۔شہوت شجاعت تینؔ۔سب میں یہ بات یاد رکھو کہ تم پر کوئی حکمران اور نگران ہے۔تمام افعال و اقوال میں اگرانسان اِس دستورالعمل کو نگاہ رکھے تو متّقی بن جاوے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء)