حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 367
پرداخت کی جاتی ہے تو پھر عورت کے چھوٹے سے چھوٹے دُکھ کی بھی کیوں نہ پرواہ کی جائے۔بعض وقت میاں بی بی کے تعلقات میں اِس قِسم کی باتیں آ جاتی ہیں کہ ان میں کسی طرح اِصلاح نہیں ہو سکتی تو اس صورت میں بجائے اس کے کہ اس بے چاری کو دُکھ دیا جائے طلاق دینے کا ارشاد ہے مگر یکدم طلاق دینے کی اجازت نہیں۔:طلاق دو بار ہے۔پھر اس کے بعداِمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ رکھ لے تو پسندیدہ طور پر۔تَسْرِیْحٌ م بِاِحْسَانٍیارخصت کر دے بہت سلوک سے۔افسوس مسلمان اِس پر عمل نہیں کرتے اور یکدم سو طلاق دیتے ہیں حالانکہ طلاق متفرق طُہروں میں دینی چاہیئے۔شَیْئًا: یہ تاکید کے لئے ہے کہ کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں۔فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ :عورت کچھ روپیہ دے کر مرد سے طلاق لے سکتی ہے۔اِس کا نام خُلع ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء) :: یکدم طلاق جائز نہیں۔عہدِنبوی میں بہت سی طلاقیں یکدم ایک ہی سمجھی جاتیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۴۳) :یہ تیسری طلاق کا ثبوت ہے۔فَلَا تَحِلُّ لَہ‘:اس سے جو حلالہ کی بَد رسم جاری ہوئی وہ اِسلام کے لئے ننگ ہے۔یہ حلالہ اس چیز کا نام ہے کہ موقّت نکاح کرتے ہیں۔اِدھر نکاح و جماع اور صبح طلاق۔پھر شوہر نکاح کر لیتا ہے۔یہ بہت بُری رسم ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء)