حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 363
موجود ہیں تاکہ انسان کی جان و مال و عزّت کا نقصان نہ ہو۔کوئی کِسی کو دُکھ نہ پہنچائے مگر خود مسلمانوں ہی نے ایک مسئلہ کو تمام دُکھوں کی جڑ بنا دیا ہے حالانکہ نکاح آرام و دوستی و رحمت کے لئے تھا چنانچہ فرمایا (الروم:۲۲)مگر بعض ایسے لوگ ہیں کہ نکاح کر کے نہ تو بساتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں۔طلاق کی اجازت پر اگر یہ عمل کرتے تو عورتوں پر یہ ظلم و ستم نہ ہوتا۔مَیں نے دُنیا بھر میں مکّہ ایک ایسا شہر دیکھا جہاں عورت کو ذرا بھی تکلیف ہو تو وہ قاضی کی عدالت میں چلی جاتی ہے۔اسی وقت شوہر کو بُلایا جاتا ہے اور حکم ہوتا ہے کہ یا تو ابھی طلاق دو یا آئندہ نیک سلوک کی ضمانت دو۔دیکھو مَیں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ عورتیں بہت ہی کمزور ہیں۔تم ان مظلوموں پر رحم کرو۔ان سے نیکی کے ساتھ معاشرت کرو۔(البقرۃ:۲۲۹) کو یاد رکھو۔اگر نشوز کا خوف ہو تو ایک اپنے قبیلے سے ایک اس کے قبیلے سے حُکم مقرر کر کے جلد فیصلہ کر دو۔حتّی الوسع عفوو در گذر، چشم پوشی سے کام لو۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی وصیّت ہے اِسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا۔اسے مت بھُولو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۹؍اپریل ۱۹۰۹ء) :یہ عدّت کی مدّت ہے۔قرء کہتے ہیں حَیض کو اور طُہر کو بھی۔اﷲ تعالیٰ اپنی