حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 356 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 356

غرض کرِدار، گفتار۔رفتار سارے کے سارے اِس کوشِش میں ہوں کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جاوے۔یاد رکھو خدا تعالیٰ قدّوس ہے۔اس کا مقرّب نہیں بن سکتا مگر وہی جو پاک ہو۔انسان بے شک کمزور ہے اِس لئے وہ غلطیوں کو بخشنے والا ہے مگر اپنی طرف سے کوشِش ضروری ہے۔مومن میں استقلال و ہمّت بہت ضروری ہے۔یہ غلط خیال ہے کہ نبیوں نے اُ س وقت مقابلہ کیا جب ان کا جتھا ہو گیا۔حضرت نوح علیہ السلام کے جتھے کا کیا حال تھا۔(ھود:۴۱) جب آپ کو مقابلہ کی ضرورت پڑی تو ایک جُملہ سے وہ کام لیا جو کُل دُنیا کی فوج نہیں کر سکتی یعنی (نوح:۲۷) حضرت موسٰیؑ کیسی حالت میں تھے۔فرعون نے کہا (الذخرف:۵۳) ان کی تمام قوم غلام تھی مگر ایک آواز سے سب کام کروا لیا۔(یونس:۸۹) نبیوں کو خدا کے پاک لوگوں کو جتھوں کی کیا پرواہ ہے۔انبیاء کے نزدیک ایسا خیال شرک ہے۔مَیں تمہیں دعاؤں کی طرف متوجّہ کرتا ہوں۔تم یوں سمجھو کہ دعاؤں کے لئے پیدا کئے گئے اور یہی دعائیں تمہارے کام سنواریں۔(بدر ۱۴ نومبر ۱۹۰۹ء صفحہ اوّل)     : لڑائی میں سپاہی کو شراب پلا دیتے ہیں تاکہ اس کے مزاج میں رحم وغیرہ نہ رہے اور وہ اندھا دُھند تلوار چلاتا جائے اِس لئے صحابہؓ نے شراب کے متعلق سوال کیا۔پھر لڑائی کے لئے اخراجات کی ضرورت ہے۔عرب میں ایسے موقع پر یہ دستور تھا کہ بڑے بڑے امیر لوگ