حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 355
کوششیں اکارت جاویں گی۔وہ دُنیا میں ہلاک ہوں گے۔مَیں اِس آیت پر یقین کر کے کہتا ہوں کہ جو لوگ امنِ عامہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ ضرور ناکام و نامراد ہلاک ہوں گے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۶؍ اپریل ۱۹۰۹ء) اِس (آیت ) میں ایک غلطی کی اصلاح ہے جو نہ صرف چھوٹوں میں پائی جاتی ہے بلکہ بڑوں میں بھی اور وہ یہ کہ مستحق کرامت گنہ کاراں اند کا مصرعہ زبان پر رہتا ہے جس نے بہت لوگوں کو بیباکی کا سبق دیا۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے رحمتِ الہٰی کے مستحق تو وہ لوگ ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں اوّلؔ ایمان بِاﷲ یعنی یہ یقین ہو کہ تمام خوبیوں سے موصوف اور تمام نقصوں سے منزّہ ذات اﷲ کی ہے۔پھر ملائِ کہ پر ایمان ہو یعنی ان کی تحریک پر عمل کیا جائے۔پھر کتب اﷲ پر ایمان ہو۔نبیوں پر ایمان ہو۔یَومِ آخرت پر ایمان ہو۔صرف عذاب القبر حق ہی نہ کہے بلکہ رحمت القبر حق بھی۔تقدیر ( یعنی ہر چیز کے اندازے اﷲ تعالیٰ نے بنا رکھے ہیں) پر ایمان ہو۔پھر اس ایمان کے مطابق عمل درآمد بھی ہو۔عیسائیوں نے دھوکہ دیا ہے اور وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ نجات فضل سے یا ایمان سے یا عمل سے ؟ ہمارا جواب یہ ہے کہ نجات فضل سے ہے کیونکہ قرآن شریف میںہے(فاطر:۳۶) ہے مگر اِس فضل کا جاذب ایمان ہے اور جیسا کِسی کا ایمان مضبوط ہے اسی کے مطابق اس کے عمل ہوتے ہیں اِسی واسطے یہاں اٰمَنُوْا کا ذکر فرما دیا۔کیونکہ اعمال ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں چنانچہ اس ایمان کا ایک نشان ظاہر کیا ہے کہ تمام مقدمات کی بنا تو زمین ہے مگر جب انسان ایمان میں کامل ہو جاتا ہے تو پھر وہ خدا کے لئے اس زمین کو بھی چھوڑ دیتا ہے یعنی ہجرت کیونکہ کسی چیز کو اﷲ کے لئے چھوڑ دینا بہت بڑا عملِ صالح ہے۔پھر فرمایا ایمان کا مقتضٰی اس سے بھی بڑھ کر ہے وہ کیاجَاھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ یعنی اس کا دِن اس کی رات۔اس کا علم، اس کا فہم، اس کی محبّت ، اس کی عداوت، اس کا سونا اور اس کا جاگنا