حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 336
پر سے گِرا دیا اور خود اُوپر چڑھ گیا۔اگر اس کے پاس زادِراہ ہوتا تو یہ جدال کیوں کرتا۔: سامان کا عظیم الشّان فائدہ تو یہ ہے کہ آدمی سوال اور گناہ سے بچ جاتا ہے۔جس کے پاس زادِراہ نہ ہو وہ چوری کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور غالباً اِس قسم کی حکایتیں انہی قِسم کی کمزوریوں کی وجہ سے بن گئی ہیں۔ایک نابینا عورت کی کِسی نے چادر اُتارلی تو وہ کہنے لگی۔وے بچّہ حاجیا میری چادر تو دیتا جا۔: جو کچھ ایمان کے خلاف ہے وہ فسق ہؤا۔: بے جا لڑائی کرنا۔ایک دو کہانیاں مجھے یاد آ گئی ہیں۔ایک دفعہ راہ میں ایک شخص کی مجھ سے چابی گُم ہو گئی۔وہ مجھے کہے کہ مَیں بعینہٖ وہی چابی لُوں گا۔مَیں نے کہا کہ بہت اچھا۔خدا تعالیٰ قادر ہے۔اصل بات یہ تھی کہ کچھ ڈاکو ہمارے اسباب و سامان پر پڑے تھے اُس روز وہ چابیاں لے گئے۔چونکہ میرا صندوق سب سے بھاری تھا اِس لئے اُس شخص کا مطالبہ تھا کہ تمہاری وجہ سے ہماری چابی گئی ہے وہ مہیّا کر دو۔اَب ان ڈاکوؤں کی چند سپاہیوں سے مُٹھ بھیڑ ہوئی اور وہاں وہ چابیاں چھوڑ گئے اور اتفاق سے وہ سپاہی ہمارے قافلہ میں آ گئے اور اس طرح وہ چابی ہمیں مل گئی۔دوسرا قصّہ یاد آیا کہ ایک دفعہ دو بھائی حج کرنے چلے۔مَیں نے ان سے کہا کہ تم جو خرچ کرتے ہو لکھتے جاؤ بعد میں حساب کر لینا مگر انہوں نے اسے برادرانہ تعلّقات کے خلاف سمجھا لیکن آخر جا کر ان کی لڑائی ہوئی۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) تیسری بات مجھے یاد آئی کہ بَدّوؤں کی عادت ہے کہ جب ایک کھانا کھانے لگے تو جتنے بدّوہوں سب اسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اِس طرح وہ بھُوکے رہتے ہیں۔مَیں اپنے اُونٹ والے کو آدھی رات کے وقت کھجوریں دیا کرتا تھا۔ایک دفعہ مَیں نے اُسے کہا جاؤ پانی لاؤ۔وہ گیا اور تھوڑی دیر ِبعد خالی واپس آیا۔مَیں نے کہا کیا ہؤا۔کہا تَرٰی اِنْشَائَ اﷲُ مُصْبِحِیْنَ۔صبح معلوم ہوا کہ ایک رئیس کے یہاں قافلے میں پانی کی بُوند نہیں تھی۔بات یہ ہوئی کہ اُس نے پانی مانگا۔انہوں نے انکار کیا۔اسے غصّہ جو آیا تو ان کے مشکیزوں میں سوراخ کر دیا۔یہ باتیں مَیں نے اِس لئے سُنائیں تا آپ کو معلوم ہو کہ جھگڑے کیوں پَیدا ہوتے ہیں اور یہ کہ اتنے مختلف المزاج لوگوں میں ایسے معاملات کا پیش آنا ممکن ہے۔پس خدا فرماتا ہے کہ بیجا لڑائی مت کرو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء)