حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 329
: لڑائی کے وقت مالوں کی سخت ضرورت ہوتی ہے اِس لئے اسکی ترغیب دی! دیکھو ابوبکررضی اﷲ عنہما اور عمررضی اﷲ عنہما قوم کے لحاظ سے ابوجہل وغیرہ سے بڑے نہ تھے مگر انہوں نے اﷲ کی راہ میں خرچ کیا تو وہ بڑے بن گئے۔مَیں ہمیشہ اِس امر کو ذوق سے دیکھا کرتا ہوں کہ مہاجرین نے خدا کے لئے وطن چھوڑا تو ان کو بدلے میں ملک کی سلطنت ملی۔انصار نے یہ کام نہ کیا اِسلئے ان کویہ اجر بھی نہ ملا۔خدا کی راہ میں خرچ کرنا کبھی ضائع نہیں جاتا۔ایک صحابیؓ نے رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مَیں نے زمانۂ جاہلیّت میں سَو اُونٹ دیا تھا کیا اس کا کچھ ثواب ملے گا فرمایااَسْلَمْتَ عَلٰی مَاسَلَفَ مِنْ خَیْرٍبخاری۔کتاب الأدب باب مَنْ وَصَلَ رَحَمِہٗ فِی الشّرک ثُمَّ أَسْلَمَ)اُسی کی برکت سے تو تُو مسلمان ہؤا۔ایسا ہی ایک اَور قصّہ ہے کہ کوئی خشک فتوٰی گر تھے ان کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا جو ہر صبح چڑیوں کو چوگا ڈالتا تھا۔اس فتوٰی گر نے کہا کہ کیوں ناحق اپنا مال ضائع کرتا ہے۔تیرے اِس جُود و سخا کا بوجہ کُفر کوئی فائدہ نہیں۔کچھ مدّت ہوئی تو اُسے حج کرتے پایا۔اُس وقت سمجھا کہ یہ اسی خیرات کا اثر تھا۔ایسا ہی ایک اَور بدکار نے ایک پیاسے کتّے کو اپنے موزہ سے پانی نکال کر پلایا تو خدا نے اسے نجات کی راہ بتائی۔بہر حال انفاق فی سبیل اﷲ بہت سے ثمرات رکھتا ہے اور ہر زمانے میں انفاق کا ایک رنگ ہوتا ہے۔یہ زمانہ فوجی تیاریوں پر خرچ کرنے کا نہیں بلکہ قلمی جہاد کا ہے۔پس اسی میں مدد کرنا ہر مومن پر فرض ہے۔اگر تم یہ خرچ نہ کرو گے تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے تئیں ہلاک کر لو گے کیونکہ جب دشمن کا مقابلہ نہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ سوا اپنی بربادی اور گمنامی کے اَور کچھ نہیں۔اس لئے فرماتا ہے: تم اپنے ہاتھوں سے اپنے تئیں ہلاکت میں نہ ڈالو۔:احسان کی عادت ڈالو تا تم خدا کے محبوب بن جاؤ۔رُوح کے خواص میں سے ایک یہ بات ہے کہ ہر شخص محبوبیّت کے مقام کا خواہاں ہے۔شاعر شِعر کہتا ہے۔لیکچرار لیکچرتیار کرتا ہے خوبصورت بن ٹھن کے نکلتا ہے۔دولتمند مال خرچ کرتا ہے اِس لئے کہ وہ محبوب بن جائے۔اِس محبوبیّت کے مقام کے حصول کا ایک ذریعہ اﷲ بتاتا ہے وہ یہ کہ تم مُحسن بن جاؤ۔پھر تم محبوب بنو گے اور محبوب بھی کِس کے ؟ اﷲشخص اپنے محبوب کو ذلیل نہیں کرتا۔پس وہ جس کا خدا مُحِب ہو وہ کیونکرذلیل ہو سکتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء)