حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 328 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 328

پس جہاد بھی اس وقت تک جائز ہے کہ مومن کفّار کے فتنہ میں نہ رہے اور جو ایمان لا چکے ہیں وہ اپنی عبادت بِلا کسی خوف و روک کے ادا کر سکیں۔وہ نفاق سے کام لینے پر مجبور نہ ہوں بلکہ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ اﷲکے لئے ان کا دین ہو اور فتنہ نہ رہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے (البقرۃ:۲۱۸) شرارتیں اور فتنے اﷲ کو ناپسند ہیں۔پس اس وقت تک لڑائی جائز ہے کہ جب تک فتنہ رہے۔  یعنی وہ تم سے لڑتے رہیں گے جب تک کہ تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کر لیں۔پس جب یہ خوف جاتا رہے اور کفار بِالِا کراہ کسی مسلمان کو کافر نہ بنا سکتے اور فتنہ بازیوں سے ہٹ جائیں تو پھر تمہارے الہٰی حدبندی (امن ) کو توڑنے کا کوئی موقع نہیں مگر ان لوگوں کے لئے جو فتنہ ڈالتے رہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) وَ: ظاہر و باطن لوگوں کا دین ایک ہو جائے۔مذہبی ٓازادی ہو۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۱) : مقابلہ کر ویہاں تک کہ فتنہ اور شرارت نہ رہے۔(نورالدین صفحہ ۱۰۳) اِس لئے لڑو کہ لوگ آزمائشوں اور دین میں پھسلائے جانے سے بچ جاویں اور ظاہر و باطن میں مسلمان ہو کر بسر کریں۔ایسا نہیں کہ ڈر کے مارے اندر سے مسلمان اور باہر سے کافر۔(فصل الخطاب جلد اوّل ایڈیشن دوم صفحہ ۹۹،۱۰۰) اور ان سے (کافرانِ مکّہ اور ان کے خصال و صفات کے آدمی )لڑو جب تک روک ٹوک اُٹھ جاوے اور دین اﷲ کے لئے ہو یعنی فرائضِ دین بِلا روک ٹوک ادا کئے جا سکیں اور مخل خلل اندازی چھوڑ دے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۴۹)