حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 327 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 327

:سے کون مراد ہیں؟ وہی جو  کے مصداق ہیں جو جنگ کرتے ہیں۔: قتل سے ایک نفس کا نقصان ہوتا ہے مگر فتنہ ایسی بَلا ہے کہ اس میں قوم کی قوم ہلاک ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ ایک بچّہ فتنہ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اِس کی مثال دِیاسلائی سے ہے کہ پہلے ایک گرین بھی سلفر اس میں نہیں ہوتا مگر جب اسے گھِسا کر کِسی لکڑی سے لگاتے ہیں تو پھر بعض اَوقات محلوں کے محلے بلکہ شہروں کے شہر جَل جاتے ہیں۔پس تم چھوٹی بات کو چھوٹا نہ سمجھو بلکہ بڑا سمجھو اور فتنے سے بچتے رہو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۸؍ اپریل ۱۹۰۹ء)   : یہ مسئلہ خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ اﷲ مذاہب کا ابطال نہیں چاہتا بلکہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اﷲ تعالیٰ چاہتا تو سارے جہان کو ایک مذہب پر قائم کر دیتا۔ (الانعام:۱۵۰) دوسرے مقام پر فرمایا  (الحج:۴۱) یعنی اگر اﷲ آدمیوں کی ایک دوسرے سے مدافعت نہ کرتا رہتا تو عیسائیوں کی، مسلمانوں کی ، مجوسیوں کی، یہودیوں کی عبادت گاہیں مُنہدم ہو جاتیں۔جس سے معلوم ہؤا کہ مذاہب کا اختلاف اﷲکے منشاء کے ماتحت ہے۔اﷲ تعالیٰ جو انبیاء کو بھیجتا ہے تو امن قائم کرنے کے لئے۔یہ منشاء نہیں ہوتا کہ لوگوں کو پکڑ کر مسلمان بنائیں بلکہ وہ  (البقرۃ:۲۵۷) کے ماتحت چلتے ہیں کیونکہ انسان اس وقت تک خدا کے نزدیک تو مومن نہیں ہوتا جب تک کہ دِل سے ایمان نہ لائے۔اور پھر ضروری ہے کہ اس کے ایمان کے آثار اس کے ظاہری کاموں میں ہویداہوں اور کوئی اس کو روک نہ سکے۔