حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 326
: جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔وہ بھی از خود نہیں بلکہ ایک امام کے ماتحت۔فرمایا رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اَلْاِمَامُ جُنَّۃٌ یُّقَاتِلُ مِنْ وَّرَآئِہٖ(بخاری کِتاب الجھادِ وَ السَّیْرِ باب یُقَاتَلُ مِنْ وَرَآئِ الإِمَامِ وَ یُتَّتٰی بِہٖ) امام ایک سپر ہے اسکے پیچھے لڑا جاتا ہے۔ایک سپاہی دوسرے سپاہی کو مارتا ہے مگر اس کا واقف نہیں ہوتا۔کوئی پوچھے یہ جو اس کے مقابلہ کے لئے آگ ہو رہا ہے آخر کوئی وجہ؟ تو اس کا یہی جواب ہو گا کہ وجہ ان کے آفیسر کو معلوم ہے۔پس سپاہی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آفیسر کا تابع رہے۔: حد سے نہ بڑھو۔یہ اِس لئے فرمایاکہ سپاہی کو جوش میں حد کی خبر نہیں رہتی اس لئے اس کی ہر ایک حرکت اپنے آفیسر کے ماتحت ہونی چاہیئے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) اﷲ کے رستے میں اُن سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے مت بڑھو۔اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پیار نہیں کرتا۔(تصدیق براہینِ احمدیہ صفحہ ۴۹) مقابلہ کرو اعلائے کلمتہ الحق میں اُ سے جو تم سے مقابلہ کرتے ہیں اور حد سے نہ بڑھنا۔اس کے معنی رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے اوّل جا نشین نے یہ کئے ہیں کہ لڑکے، عورتیں بڈھے، فقیر اور تمام صُلح جُو نہ مارے جائیں۔(نورالدین صفحہ ۱۰۳) اور خدا کی راہ میں ان سے ہی لڑو جو تم سے لڑیں اور حدسے مت بڑھو۔اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔(نورالدین صفحہ ۲۰۶)