حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 325
رَبّ جانتا ہے: اوّل: (النّٰذعٰت:۴۳) پوچھتے ہیں قیامت کی گھڑی کب ہو گی؟جواب دیا (الاعراف :۱۸۸) تُو کہہ کہ اِس کا علمِ میرے ربّ ہی کے پاس ہے۔دوسراؔ: (الذٰریٰت:۱۳) پُوچھتے ہیں جزا کا دن کب ہو گا جس کا جواب کچھ نہیں دیا؟غالباً اِس لئے کہ وہ ہمیشہ ہے یا اِس لئے کہ ان کی مُراد قیامت ہے۔تیسرا: پُوچھتے ہیں وہ گھڑی کب ہوگی گی؟جس کا جواب دیا۔ (النّٰذعٰت:۴۴،۴۵)تجھے ایسے قِصّوں سے کیا۔اس کا علمِ رَبّ تک ہے۔چوتھا: پُوچھتے ہیں اس ساعت کے متعلق ؟ جس کا جواب دیا۔(الاحزاب:۶۴)اس کا عِلم صرف اﷲ کے پاس ہے۔پانچواںؔ: تجھ سے پُوچھتے ہیں کیا تُو ایسی باتوں کے پیچھے پڑا ہؤا ہے۔جس کا جواب دیا (الاعراف:۱۸۸) اِس کا عِلم اﷲ کے پاس ہے۔لاکن اِس سوال کا جواب نہ دینے سے نبوّت میں کوئی نقص نہیں آتاکیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:۔’’ اس دن اور اس گھڑی کو میرے باپ کے سوا آسمان کے فرشتہ تک کوئی نہیں جانتا‘‘۔(متی ۲۴ باب ۳۶) اَور جگہ فرماتے ہیں:۔’’ اس دن اور اس گھڑی کی بابت سوا باپ کے نہ تو فرشتے جو آسمان پر ہیں اور نہ بیٹا کوئی نہیں جانتا ہے۔(مرقس ۱۳باب ۳۲) سائل اور اس کے ہم خیال غور کریں۔اس گھڑی کی بابت حضرت مسیحؑ (نے) کیا فتوٰی (دیا) ایسی گھڑی کا وقت نہ بتانا اگر نبوّت اور رسالت میں خلل انداز ہے تو حضرت مسیحؑ کی نبوّت اور رسالت بلکہ عیسائیوں کی مانی ہوئی مسیحؑ کی الوہیّت میں خلل پڑے گا۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور اُن کے جوابات صفحہ ۵۵ تا۵۸)