حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 324
رہیں گے؟تو جواب دے: (طٰہٰ:۱۰۶)اُڑ دے گا اور پہاڑوں کو پاش پاش کر دے گا میرا رَبّ۔بارھواں سوال تجھ سے سوال کرتے ہیں قرآن کِس کا بنایا ہؤا ہے؟ تو جواب دے۔ (بنی اسرائیل:۸۶)یہ قرآن میرے رب کا حکم اور اسی کا کلام ہے۔اوّلؔ: قرآن میں خود اِس وحی اور کلامِ الہٰی کو رُوح کہا گیا۔وَ الْقُرْاٰنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہ‘ بَعْضًا۔دیکھو (الشورٰی:۵۳)اور اِس طرح وحی کی ہم نے تیری طرف رُوح اپنے حکم سے۔دومؔ: کے ما قبل اور ما بعد قَرآن کریم کا تذکرہ ہے۔ہاں ممکن ہے کہ ہم اِس آیت میں رُوح کے معنے اُس فرشتہ کے یعنی جو وحی لاتا تھا اور جس کا نام اسلامیوں میں جبرائیل ہے۔یا یُوں کہیں کہ رُوح کے مخلوق اور غیر مخلوق ہونے کا سوال ہؤا۔جواب دیا گیا۔رُوح حادث اور ربّ کے حکم سے ہؤا ہے۔تیرھواں سوال مانگتے ہیں تجھ سے یہودی اور عیسائی (النّسآ: ۱۵۴) اہلِ کتاب کہ ان پر اُتار دے تُو ایک کتاب آسمان سے۔یہ سوال اہلِ کتاب نے اِس لئے کیا کہ محمد صاحب ( صلی اﷲعلیہ وسلم) نے دعوٰی کیا ہے کہ مَیں موسٰیؑ کی مانند نبی ہوں اور وہی ہوں جس کی بابت توریت استثناء کے ۱۸ باب ۱۸ میں پیشگوئی موجود ہے اور اس نبی کی پیشگوئی توریت میں اِس طرح لکھی تھی: تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اسکے مُنہ میں ڈالوں گا ( استثناء ۱۸باب۱۸)پس لامحالہ اس نبی کے واسطے کوئی ایسی کتاب آسمان سے نہ اُترے گی جو لکھی لکھائی آ جاوے کیونکہ توریت میں تو لکھا ہے ’’ اپنا کلام اس کے مُنہ میں ڈالوں گا‘‘ پس ایسے سوال کے جواب میں فرمایا: (النّسآ:۱۵۴) باقی پانچ سوال یہ ہیں جن کے جواب میںحضور علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے یہ فرمایا ہے۔میرا