حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 322
تذکرہ موجود ہے۔مُنصف غور کریں۔اوّل رمضان کے مہینہ اور روزوں کے چاند کا تذکرہ جب قرآن کریم نے کیا تو الوگوں نے رمضان کے اَور اَور چاندوں کا حال دریافت کیا جیسے قُرآن کہتا ہے اور ماہِ رمضان کے تذکرہ کے بعد اِس سوال کا تذکرہ کرتا ہے۔پوچھتے ہیں محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) سے رمضان کے سوا اَور چاندوں کا حال یعنی ان میں کیا کرنا ہے اِس سوال کے جواب سوال کے بعد ہی بیان کیا گیا اور جواب دیا: (بقرہ:۱۹۰)تُو اِس سوال کے جواب میں کہہ دے کہ یہ چاند لوگوں کے فائدہ اُٹھانے کے وقت ہیں اور بعضے چاندوں میں حج کے اعمال ادا کئے جاتے ہیں۔دوسرا سوال یہ ہے: سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں؟ اِس کا جواب قُرآن نے دیا ہے: (البقرۃ:۲۱۶) جو کچھ خرچ کرو مال سے تو چاہیئے کہ وہ تمہارا دیا اور خرچ کیا تمہارے والدین اور تمہارے رشتہ داروں اور یتیموں اور غریبوں اور مسافروں کے لئے ہو۔تیسرا سوال پُوچھتے ہیں تجھ سے حُرمت والے مہینہ کے متعلق کہ اس میں جنگ کا کیا حکم ہے ؟ تو جواب دیا: (البقرۃ:۲۱۸) تُو جواب دے اِس مہینہ میں لڑائی کرنا بُری بات ہے اور اس سے حج و عمرہ کی سی عبادت سے روکنا لازم آتا ہے۔چوتھا سوال پوچھتے ہیں تجھ سے شراب اور جُوئے کی بابت۔تُو جواب دے۔ (البقرۃ:۲۲۰)شراب خوری اور قمار بازی نہایت بڑی اور بُری بدکاری ہے۔