حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 318
مَیںنے ایک دہریّہ کے سامنے اِس حُجّت کو پیش کیا۔وہ ہکّا بکّا ہی تو رہ گیا۔لوگوں کے مکانات اور پھر مذہبی مقامات کو دیکھو کہ ذرا سی انقلاب سے ساری عظمت ( خاک میں مِل جاتی تھی۔بابل کِس عظمت و شان کا شہر تھا مگر آج اس کاکوئی پتہ بھی نہیں دے سکتا کہ وہ کہاں آباد تھا۔کار تھج میں ہنی بال کا معبد، پیرامون کا مندر جہاں سکندر عظیم الشّان بادشاہ آ کر نذر دیتا تھا اور اپنے آپ کو اُس کا بیٹا منسُوب کرتا تھا۔ں آتش کدۂ آذر غرض بڑے بڑے مقدّس مقامات تھے جن کا نام و نشان آچ زمانہ میں موجود نہیں ہے مگر مکّہ معظّمہ کی نسبت خدائے علیم و حکیم نے اس وقت جبکہ وہ ایک وادیٔ غیر ذی زرع تھا یہ فرمایا کہ وہاں دُنیا کے ہر حصّہ سے لوگ آئیں گے۔وہاں قربانیاں ہوں گی اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کا اظہار ہوتا رہے گا۔صدیاں اس پر گذر گئیں۔دُنیا میں بڑے بڑے انقلاب ہوئے۔سلطنتوں کی سلطنتیں تباہ ہو کر نئی پَیدا ہو گئیں مگر مکّہ معظّمہ کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی وہ آج بھی اُسی شوکت اور جلال کے ساتھ نظر آتی ہے جس طرح پر کئی سَو سال پیشتر۔اِس سے اﷲ تعالیٰ کی علیم و خبیر، ہستی کا کیسا پتہ لگتا ہے۔اگر انسانی منصوبہ اور ایک خیالی اور فرضی بات ہوتی تو ان کا نام و نشان اسی طرح مِٹ جاتا جیسے دُنیا کے اَور بڑے بڑے مقدّس قرار دیئے گئے مقامات کا نشان مِٹ گیا۔مگر نہیں۔یہ اﷲ تعالیٰ کی باتیں تھیں جو ہر زمانہ میں اس کی ہستی کا زندہ ثبوت ہیں۔(الحکم ۱۰؍فروری ۱۹۰۱ء صفحہ ۴تا۶) کی شانِ نزول جب صحابہ رضوان اﷲ علہیم نے دیکھا کہ ایک ماہِ رمضان کی یہ عظمت اور شان ہے اور اس قُربِ الہٰی کے حصول کے بڑے ذرائع موجود ہیں تو ان کے دل میں خیال گذرا کہ ممکن ہے کہ دوسرے چاندوں ومہینوں میں بھی کوئی ایسے ہی اسرارِ مخفیہ اور قُربِ الہٰی کے ذرائع موجود ہوں وہ معلوم ہو جاویں اور ہر ایک ماہ کے الگ الگ احکام کا حکم ہو جاوے اِسی لئے انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دوسرے چاندوں کے احکام اور عباداتِ خاصہ بھی بتا دیئے جاویں۔ہلال اور قمر کا تفاوت: یہاں لفظ اَھِلَّۃ کااستعمال ہؤا ہے جو کہ ہلال کی جمع ہے۔بعض کے نزدیک تو پہلی دوسری اور تیسری کے چاند کو اور بعض کے نزدیک ساتویں کے چاند کو ہلال کہتے ہیں اور پھر اس کے بعد قمر کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔احادیث میں جو مہدی کی علامات آئی ہیں ان میں سے مہدی کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ ایک ہی ماہِ رمضان میں چاند اور سُورج کو گرہن لگے گا۔