حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 317
نہیں ہے یا مثلاً کوئی رشوت خور ربٰو خوری کرنے یا چور یا ایسا اِنسان جو قرض لیتا ہے کہ ادا کرنے کی نیّت نہیں ہے جبکہ دیانت داری سے کام لیتا ہے اور مولیٰ کریم کی اجازت اور پروانگی کے سوا کچھ نہیں کرتا وہ ایسا خبیث مال لینے میں کیوں جرأت کرے گا؟ ہرگز نہیں۔اسی طرح گھر میں حسین جوان بیوی موجود ہے مگر اﷲ ہی کی رصا کے لئے تیس دن چھوڑ سکتا ہے تو بَد نظری کے لئے جی کیوں للچائے گا غرض رمضان شریف ایک ایسا مہینہ تھا جو انسان کو تقوٰی ، طہارت، خدا ترسی، صبر و استقلال ، اپنی خواہشوں پر غلبہ، فتحمندی کی تعلیم عملی طور پر دیتا تھا۔ان ترقّیوں کو دیکھ کر جو صحابہؓ نے رمضان میں تقوٰی میں کی تھیں۔انہوں نے دوسرے مہینوں کے فضائل و فوائد سُننے کی خواہش ظاہر کی اور سوال کیا۔اﷲ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس کا جواب یُوں دیا تھا کہہ دو لوگوں کے فائدہ کے لئے یہ وقت مقرر فرمائے ہیں۔کیسا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جس کو صِحت ،فرصت، پھر اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے عِلم بھی عطا ہؤا ہے اور اگر نہیں تو کوئی دردِ دل سے سُنانے والا موجود ہے۔عاقبت اندیشی کی عقل دی ہے مگر باوجود اِس قدر اسباب اور سہولتوں کے میسّر آ جانے پر بھی اگر اﷲ تعالیٰ کی رضاجوئی کی فکر نہیں کرتا اور منافع اُٹھانے کی سعی میں نہیں لگتا تو اس سے بڑھ کر بد قسمت کون ہو سکتا ہے۔:کیا عجیب وقت بنایا ہے تمہارے فائدہ کے لئے اور نفع اُٹھانے کا بہت بڑا موقع دیا ہے اور اِس لئے بھی کہ تم حج کرو۔یاد رکھو حج اﷲ کی سُنن میں سے ہے۔یہ ایک سچّی بات ہے کہ جہاں بدکاریاں کثرت سے ہوں وہاں غضبِ الہٰی نازل ہوتا ہے اور جہاں عظمت اور ذکرِ الہٰی ہو وہاں فیضانِ الہٰی کثرت سے نازل ہوتا ہے۔قومی روایات سے متفقہ یہ شہادت ملتی ہے کے بَیت اﷲ کا وجود تو بہت بڑے زمانہ سے ہے لیکن حضرت ابوالمِلّۃ ابراہیم علیہ السّلام کے زمانہ سے جس کی تاریخ صحیح موجود ہے۔اَبًا عَنْ جدٍّ ّ قوموں کا مرکز اور جائے تعلیم چلا آیا ہے اور پتہ ملتا ہے کہ رات دن میں کوئی ایسا وقت بَیت اﷲمیں نہیں آتا کہ وہاں اﷲ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کے اوراد نہ پڑے جاتے ہوں۔مکہ معظمہ میں اﷲ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات کا زندہ اور بیّن ثبوت موجود ہے چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے (المائدۃ: ۹۸)یعنی اس الہٰی گھر کو معزّز گھر بنایا۔اس کو لوگوں کے قیام اور نظام کا محل بنایا اور قربانیوں کو مقرر کیا کہ تم کو سمجھ آ جائے کہ خدا ہے اور وہ علیم و خبیر خدا ہے کیونکہ جس طرح اس نے فرمایا اُسی طرح پُورا ہوا۔