حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 316 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 316

شخص اپنی شجاعت کے اظہار کے لئے لڑتا ہے۔کوئی اپنی قوم کی عزّت و جلال کے لئے۔کوئی کِسی خیال سے۔کوئی کِسی خیال سے مگر جو لڑتا ہے کلمتہ اﷲ کے اعلاکے لئے وہی خدا کے نزدیک سچّا مجاہد ہے۔اب بتاتا ہے کہ لڑائی کرو تو کِن سے کرو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) یہ رکوع شریف جو مَیں نے ابھی پڑھا ہے یہ رمضان شریف کی تاکیدوں اور اس کے اَحکام اور فضائل اور فوائد کے بیان کے بعد نازل فرمایا گیا ہے۔اِس رکوع کا مضمون اور مطلب رمضان کے بعد ہی سے بلا فصل شروع ہوتا ہے جو آجکی تاریخ ہے۔یہ مہینہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ بہ نسبت اَور مہینوں کے ایک خاص فضل اور انعام مسلمانوں پر اس میں نازل ہؤا ہے۔گویا نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوّت کا یہی مہینہ ابتدائی سال ہے۔آخر رمضان میں جو وحی نازل ہوئی ہے تو تبلیغ شوال ہی سے شروع فرمائی ہے۔وہ جو نور تاریکیوں سے دُور کرنے کے واسطے اﷲ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور جس کا اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرًا میں کیا ہے اس کا شروع یہی مہینہ ہے… رمضان میں تقوٰی کا سبق یُوں ملتا ہے سخت سے سخت ضرورتیں بھی جو بقائے نفس اور بقائے نسل کے لئے ضروری ہیں ان کو بھی روکنا پڑتا ہے۔بقائے نفس کے لئے کھانا پینا ضروری چیزہیں اور بقائے نسل کے لئے بیوی سے تعلق ایک ضروری شے ہے مگر رمضان میں کچھ عرصہ کے لئے یعنی دِن بھر اِن ضرورتوں کو خدا کی رضا مندی کی خاطر چھوڑنا پڑتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے اِس میں یہ سبق سکھایا ہے کہ انسان جب بڑی ضروری خواہشوں اور ضرورتوں کو ترک کرنے کا عادی ہو گا تو غیر ضروری کے چھوڑنے میں اس کو کیسی سہولت ہو گی۔دیکھو ایک شخص کے گھر میں تازہ دُودھ ، ٹھنڈے شربت ، انگور، نارنگیاں موجود ہیں۔پیاس کے سبب سے ہونٹ خشک ہو رہے ہیں۔کوئی روکنے والا نہیں۔باوجود سہولت اور ضرورت کے اِس لئے ارتکاب نہیں کرتا کہ مولیٰ کریم ناراض نہ ہو جائے اور اسی طرح عمدہ عمدہ کھانے ،پلاؤ، کباب اور دوسری نعمتیں میسّر ہیں اور بھُوک سے پیٹ میں بَل پڑ جاتے ہیں اور پھر کوئی نہیں جو اِن کھانوں سے روکنے والا ہو مگر یہ اِس لئے استعمال نہیں کرتا کہ مَولیٰ کریم کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو۔جبکہ یہ حال ہے کہ ایسی حالت اور صورت میں کہ اس کی عمدہ سے عمدہ نعمتیں جو اس کے بقائے نفس کے لئے اشد ضروری ہیں یہ صرف مَولیٰ کریم کے حکم کی رضامندی کی خاطر ان کو چھوڑتا ہے اور پھر دیکھتا ہے کہ چھوڑ سکتا ہے تو بھلا ایسا انسان جو خدا کے لئے ضروری چیزیں چھوڑ سکتا ہے وہ شراب کیوں پینے لگا اور خنزیر کیوں کھانے لگا جس کی کچھ بھی ضرورت