حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 315
لو گے تو پھر تمہارے لئے بشارت ہے۔ہاجرہؔ علیہا السلام کے واقعہ پر غور کرو کہ اس نے صبر کا کیا اَجر پایا۔پھر قصاص کی ترغیب دی اور یہ بھی بتایا کہ یہ سب کچھ ہیچ ہے جب تک تقوٰی نہ ہو کیونکہ یہی تقوٰی تمام کامیابیوں کی جڑ ہے۔پھر تقوٰی کے حصول کے ذریعے بتائے ہیں چنانچہ ان میں سے ایک ذریعہ کا ذکر پچھلے رکوع میں فرمایا کہ روزے رکھو۔مناہی سے بچنے کی مشق کرتے رہو۔جب ایک مہینہ کی نسبت صحابہ کو یہ علم ہؤا کہ اس میں یہ فضیلتیں ہیں تو انہوں نے دوسرے تمام چاندوں کی نسبت یہی سوال پیش کیا۔یہ شانِ نزول ہے کا تو فرمایا کہ۔: اِس سے پہلے ایک دفعہ جو آیا اس میں بتایا کہ تم مشرق و مغرب کے فاتح ہو جاؤ گے مگر تقوٰی نہیں تو کچھ بھی نہیں۔یہاں یہ بتایا کہ ظاہری رسوم کی پابندی کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی جب تک کہ اس کی رُوح پر تمہارا عمل نہ ہو۔ہمارے علاقہ ( بھیرہ ضلع شاہ پور) میں ایک رسم ہے کہ حرام کا دُودھ الگ برتنوں میں رکھتے ہیں اور حلال کا الگ برتنوں میں۔مٹی کے برتنوں کا تو بڑا اہتمام ہوتا ہے مگر پیٹ میں سب کچھ جمع کر لیتے ہیں۔اِس ظاہرداری پر کیسا افسوس آتا ہے کہ مٹی کے برتن میں تو حلال و حرام کے لئے تفرقہ کر لیں مگر حقیقی برتن ( پیٹ) کے لئے کچھ پرواہ نہ کریں۔اِسی طرح نمازوں میں صفیں سیدھی کرنے کی تو بہت تاکید ہوتی رہتی ہے مگر جو اس کا اصل مقصد ہے جب وہ نہ ہو تو یہ ایک معمولی رسم رہ جائے گی۔وہ یہ کہ کوئی بڑا بن کر آگے نہ ہو اور پیچھے نہ ہو اور آپس میں ایک جان ہو کر رہو۔پس اگر تم ایک نہ ہو جاؤ اور دلوں میں کھوٹ رہے تو پھر تخنے کا ٹخنے سے ملانا عبث ہے۔:ہر ایک چیز کے حصول کے لئے ایک راہ ہوتی ہے پس اسی راہ سے اسے طلب کرو۔جب انسان اس راہ پر نہ چلے گا تو منزل مقصود کو ہرگز نہ پہنچے گا۔ان میں ایک رسم بھی تھی کہ گھروں میں واپس آتے تو چھَت پھاڑ کر گذرتے۔اِس سے منع فرمایا کہ یہ رسم ہے اسکے اصل کی طرف توجّہ کرو۔:اَیْ اَنْتُمْ تَصِیْرُوْنَ مُفْلِحِیْنَ یعنی تم تقوٰی اختیار کرو شاید کہ وہ مفلح تم ہی ہو جاؤ۔وہی مفلحون جن کا ذکر البقرۃ آیت:۶ میں آیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ تم بھی (اے احمدیو !) اپنے دلوں کو صاف کرو۔منصوبہ بازیوں میں شریک نہ ہو۔کسی سے مقابلہ کرو تو نفس کے لئے نہیں بلکہ محض اﷲ کے لئے۔رسولِ کریم نے فرمایا کہ کوئی