حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 314 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 314

   یہ سُورۃ مدینہ منوّرہ میں نازل ہوئی تھی۔مدینہ طیّبہ کا وقت جو رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ وسلّم پر گزرا ہے اس کا پتہ چار باتوں سے لگتا ہے۔مکّہ معظمہ میں آپ کو اور آپ کی جماعت کو شدید تکلیفیں دی گئیں یہاں تک کہ جن لوگوں کے جتّھے تھے وہ بھی ہار کر افریقہ میں چلے گئے۔جب جتھے والوں کی یہ حالت تھی تو جن کا جتھا نہیں تھا ان کی حالت خودظاہر ہے۔صبراِسی بات کی طرف غور کر کے ان کے مشکلات کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر افریقہ چلے گئے جو بالکل بیابان وغیرآباد تھا۔پھر وہاں تک پہنچنا بھی کوئی آسان نہیں تھا۔نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم پر جو تین برس آئے وہ تو ایسے تھے کہ بڑی مشکلات کا سامنا تھا۔کِسی سے نکاح نہیں کر سکتے روٹی وغیرہ کسی کے ساتھ نہیں کھا سکتے۔کوئی ان کو سلام نہیں دیتا تھا۔غلّہ جو باہر سے آتا تھا اسے بنی ہاشم خرید نہیں سکتے تھے۔پھر تیسری تکلیف یہ تھی کہ جب آپ مدینہ میں چلے گئے تو بد بخت لوگوں نے مدینہ کے اِرد گِرد شام کی تجارت کا بہانہ بنا کر تمام نواحی مدینہ کی قوموں پر رُعب ڈالنے کے لئے قافلے پر قافلے بھیجنے شروع کئے۔چوتھی بات تکلیف کی یہ تھی کہ وہاں بھی دشمن موجود تھے۔بنو قینقاع، قریظہ، بنو نضیر، عیسائی وغیرہا سات قوموں کا جمگھٹا تھا۔اِن سب ضرر دینے والوں کے ظلم وستم سے بچنے کیلئے جہاد کے سوا کوئی تدبیر نہ تھی۔چنانچہ یہ سُورہ اوّل سے آخر تک جہاد کی ترغیب میں نازل ہوئی پہلے رکوع میں (آیت:۶) فرما کر یہی اشارہ کیا ہے۔مُفلح کہتے ہیں اُسے جس کے سر پر فتحمندی کا تاج ہو۔پھر تیسرے رکوع میںبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فرما کر مفتوح ملکوں کا نقشہ دکھایا ہے کہ ان میں نہریں بہتی ہوں گی۔باغ ہوں گے جن کے وارث مومن ہوں گے اور اس کے ساتھ کفّار کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ نار الحرب میں ہلاک ہوں گے۔پھر بنی اسرائیل کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے موسٰی علیہ السّلام کے حکم کے خلاف جہاد میں جانے سے مضائقہ کیا تو (آیت:۶۲) کے ماتحت مسکنت میں کُچلے گئے۔اِس میں اشارہ کیا کہ تم یُوں نہ کرنا۔اس کے بعد کئی طور سے ترغیبیں دی ہیں اور بتایا ہے کہ جہاد میں خوف، جوع، مال و جان کا نقصان سب کچھ ہو گا لیکن اگر تم استقلال سے کام