حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 313 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 313

بنا دیا۔ایسے لوگوں کا مال حلال مال نہیں ہوتا بلکہ وہ حرام ہوتا ہے اور بطلان کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔مومن کو ایک مثال سے باقی مثالیں خود سمجھ لینی چاہئیں۔مَیں نے زیادہ مثالیں اِس واسطے نہیں دی ہیں کہ کہیں کوئی نہ سمجھ لے کہ ہم پر بدظنّیاں کرتا ہے اِسی واسطے مَیں نے اپنے پیشہ کا ذکر کیا ہے۔مَیں اِسے کوئی بڑا علم نہیں سمجھتا لیکن اسے ایک پیشہ سمجھتا ہوں۔طبیبوں سے حکماء لوگ ڈرتے ہیں اِس لئے انہوں نے اِس پیشہ کا نام صنعت رکھا ہے۔یاد رکھو یہ بھی ایک کمینگی کا پیشہ ہے۔اِس میں حرام خوری کا بڑا موقع ملتا ہے اور طبّ کے ساتھ پنساری کی دکان بنانا اس میں بہت دھوکہ ہوتا ہے۔نہ صِحت کا اندازہ لوگوں کو ہوتا ہے نہ مریض کی پوری تشخیص ہوتی ہے اور پھر نہایت ہی معمولی سی جنگل کی سُوکھی ہوئی بُوٹی دے کر مال حاصل کر لیتے ہیں یہ بھی سخت درجہ کا بطلان کے ساتھ مال کھانا ہے۔وہ جو مَیں نے اپنے جنون کا ذکر کیا ہے چند روز ہوئے کہ ایک عمدہ کتاب بڑی خوشنما بڑی خوبصورت اور دِل لبھانے والی اس کی جِلد تھی جس پر رنگ لگا ہؤا تھا۔اس کو جو کہیں رکھا تو اَور چیزوں کو بھی اس سے رنگ چڑھ گیا جس سے ہمیں بہت دُکھ پہنچا۔غرض ! پس جلد گر نے جو جِلد کی قیمت لی ہے حقیقت میں وہ حلال مال نہیں بلکہ بطلان سے حاصل کیا ہؤا ہے۔اِسی طرح اور بھی پیشے ہیں مگر ان کا ذکر مَیں اِس واسطے نہیں کرتا کہ کِسی کو رنج نہ پہنچے۔اِسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حکام تک مال نہ پہنچاؤ۔بعض لوگ یونہی لوگوں کو وسوسے ڈالتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ناجائز طور پر پھنسانے کی کوشِش کرتے رہتے ہیں اِس لئے بعض لوگ ان سے ڈر جاتے ہیں اور نقصان اُٹھا لیتے ہیں۔غرص روزہ جو رکھا جاتا ہے تو اِس لئے کہ انسان متّقی بنناسیکھے۔ہمارے امام فرمایا کرتے ہیں کہ بڑا ہی بدقسمت ہے وہ انسان جس نے رمضان تو پایا مگر اپنے اندر کوئی تغیّر نہ پایا۔(الحکم ۱۷؍نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ۵،۶)