حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 312
مشق سکھاتا ہے۔جو شخص کسی کا مال لیتا ہے وہ مال دینے والے کی اغراض کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھ کر مال لیوے اور اُسی کے مطابق اُسے شے دیوے۔(الحکم ۲۴۔جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۱۲) اے ایمان والو! مت کھاؤ آپس میں مالِ ناحق اور نہ پہنچاؤ اُن کو حاکموں تک کہ کھا جاؤ کاٹ کر لوگوں کے مال سے مارے گناہ کے اور تم کو معلوم ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۵۹) ناحق کِسی کا مال لینا ایسا ضروری نہیں جیسے کہ اپنی بیوی سے جماع کرنا یا کھانا پینا۔اِس لئے خدا تعالیٰ سکھاتا ہے کہ جب تم خدا تعالیٰ کی خاطر کھانے پینے سے پرہیز کر لیا کرتے ہو تو پھر ناحق کا مال اکٹھا نہ کرو بلکہ حلال اور طیّب کما کر کھاؤ۔اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب تک رشوت نہ لی جاوے اور دغا فریب اور کئی طرح کی بددیانتیاں عمل میں نہ لائی جاویں روٹی نہیں ملتی۔یہ ان کا سخت جھُوٹ ہے۔ہمیں بھی تو ضرورت ہے۔کھانے پینے سب اشیاء کی خواہش رکھتے ہیں۔ہماری بھی اولاد ہے ان کی خواہشوں کو ہمیں بھی پُورا کرنا پڑتا ہے اور پھر کتابوں کے خریدنے کی بھی ہمیں ایک دَھت اور ایک فضولی ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہے گو اﷲ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے اور دوسری کتابوں کا خرید کرنا اتنا ضروری نہیں مگر میرے نفس نے ان کا خرید کرنا ضروری سمجھا ہے اور گو مَیں اپنے نفس کو اس میں پُوری طرح سے کامیاب نہیں ہونے دیتا مگر پھر بھی بہت سے روپے کتابوں پر ہی خرچ کرنے پڑتے ہیں مگر دیکھو ہم بُڈھے ہو کر تجربہ کار ہو کر کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انسان کو اس کی ضرورت سے زیادہ دیتا ہے۔بَد سے بَد پیشہ طبابت کا ہے جس میں سخت جھُوٹ بولا جا سکتا ہے اور حد درجہ کا حرام مال بھی کمایا جا سکتا ہے۔ایک راکھ کی پُڑیا دے کر طبیب کہہ سکتا ہے کہ یہ سونے کا کُشتہ ہے فلاں چیز کے ساتھ اسے کھاؤ اور ایسے ہی طرح طرح کے دھوکے دیئے جا سکتے ہیں۔جس طبیب کو پورا فہم نہیں۔پوری تشخیص نہیں اور دوائیں دے دے کر روپیہ کماتا ہے تو وہ بھی بطلان سے روپیہ کماتا ہے۔وہ مال طیّب نہیں بلکہ حرام مال ہے۔اِسی طرح جتنے جعل ساز، جھُوٹے اور فریبی لوگ ہوتے ہیں اور دھوکوں سے اپنا گزارہ چلاتے ہیں وہ بھی بطلان سے مال کھاتے ہیں۔ایسا ہی طبیبوں کے ساتھ پنساری بھی ہوتے ہیں جو جھُوٹی چیزیں دے کر سچّی چیزوں کی قیمت وصول کرتے ہیں اور بے خبر لوگوں کو طرح طرح کے دھوکے دیتے ہیں اور پھر پیچھے سے کہتے ہیں کہ فلاں تھا تو دانا مگر ہم نے کیسا اُلّو