حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 311 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 311

قول ہے اور کسی مادہ پرست تاریکی کے فرزند کا ہے۔:رشوت نہ دو اور نہ یُونہی مقدمہ بازی میں ناحق خرچ کرو۔بَاطِلْکہتے ہیں اس کو کہ اجازتِ شرعیہ کے خلاف کچھ حاصل کیا جائے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) باطل طریق سے اموال کا لینا بہت خطرناک بات ہے۔پس ہر ایک اپنے اپنے بقدر سوچو اور غور کرو کہ کہیں بطلان کی راہ سے تو مال نہیں آتا۔اپنے فرائضِ منصبی کو پُورا کرو ان میں کِسی قِسم کی سُستی اور غفلت نہ کرو۔لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبُّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔(بخاری۔کتاب الایمان با بمِنَ الْاِیْمَانِ أَنْ یَّحِبَّ لِاَحِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ (الحکم ۱۰؍فروری ۱۹۰۱ء صفحہ۶) تقوٰی کے لئے ایک جزئی بیان کی یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال مت کھایا کرو۔حرام خوری اور مال بالباطل کا کھانا کئی قِسم کا ہوتا ہے۔ایک نوکر اپنے آقا سے پوری تنخواہ لیتا ہے مگر وہ اپنا کام سُستی یا غفلت سے آقا کے منشاء کے موافق نہیں کرتا تو وہ حرام کھاتا ہے۔ایک دُکاندار یا پیشہ ور خریدار کو دھوکا دیتا ہے اسے چیز کم یا کھوٹی حوالہ کرتا ہے اور مول پُورا لیتا ہے تو وہ اپنے نفس میں غور کرے کہ اگر کوئی اِسی طرح کا معاملہ اس سے کرے اور اُسے معلوم بھی ہو کہ میرے ساتھ دھوکہ ہؤا تو کیا وہ اُسے پسند کرے گا؟ہرگز نہیں۔جب وہ اس دھوکا کو اپنے خریدار کے لئے پسند کرتا ہے تو وہ مال بالباطل کھاتا ہے۔اس کے کاروبار میں ہرگز برکت نہ ہو گی۔پھر ایک شخص محنت اور مشقّت سے مال کماتا ہے مگر دوسرا ظلم ( یعنی رشوت، دھوکا، فریب) سے اس سے لینا چاہتا ہے تو یہ مال بھی مال بالباطل لیتا ہے۔ایک طبیب ہے اُس کے پاس مریض آتا ہے اور محنت اور مشقّت سے جو اُس نے کمائی کی ہے اس میں سے بطور نذرانہ کے طبیب کو دیتا ہے یا ایک عطّار سے وہ دوا خریدتا ہے تو اگر طبیب اس کی طرف توجّہ نہیں کرتا اور تشخیص کے لئے اس کا دل نہیں تڑپتا اور عطّار عمدہ دوا نہیں دیتا اور جو کچھ اسے نقد مِل گیا اُسے غنیمت خیال کرتا ہے یا پُرانی دوائیں دیتا ہے کہ جن کی تاثیرات زائل ہو گئی ہیں تو یہ سب مال بالباطل کھانے والے ہیں۔غرضکہ سب پیشہ ورحتّٰی کہ چُوڑھے چمار بھی سوچیں کہ کیا وہ اس امر کو پسند کرتے ہیں کہ اُن کی ضرورتوں پر اُن کو دھوکا دیا جائے۔اگر وہپسند نہیں کرتے تو پھر دوسرے کے ساتھ خود وہی ناجائز حرکت کیوں کرتے ہیں۔روزہ ایک ایسی شے ہے جو ان تمام بُری عادتوں اور خیالوں سے انسان کو روکنے کی تعلیم دیتا ہے اور تقوٰی حاصل کرنیکی